سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 123

دوست نے جو خبر بھیجی تھی وہ سچی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ۱۲۳ حقیقی انصار بنائے۔چونکہ تمہاری نسبت اس کے نام سے ہے۔اس لئے جس طرح وہ ہمیشہ زندہ رہے گا، اسی طرح وہ آپ لوگوں کی تنظیم کو بھی تا قیامت زندہ رکھے اور جماعت میں خلافت بھی قائم رہے اور خلافت کی سپاہ بھی قائم رہے لیکن ہماری فوج تلواروں والی نہیں۔ان انصار میں سے تو بعض ایسے ضعیف ہیں کہ ان سے ایک ڈنڈا بھی نہیں اٹھایا جاسکتا لیکن پھر بھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوج ہیں۔اور ان کی وجہ سے احمدیت پھیلی ہے اور امید ہے کہ آئندہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ اور زیادہ پھیلے گی اور اگر جماعت زیادہ مضبوط ہو جائے تو اس کا بوجھ بھی انشاء اللہ ہلکا ہو جائے گا۔ورنہ انفرادی طور پر کچھ دیر کے بعد آدمی تھک جاتا ہے۔پس تم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں احمدیت کی اشاعت کی کوشش کرو اور انہیں تبلیغ کرو تا کہ اگلے سال ہماری جماعت موجودہ تعداد سے دوگنی ہو جائے اور تحریک جدید میں حصہ لینے والے دو گنا چندہ دیں اور پھر اپنی دعاؤں اور نیکی اور تقویٰ کے ساتھ نوجوانوں پر اثر ڈالو تا کہ وہ بھی دعائیں کرنے لگ جائیں اور صاحب کشوف و رویاء ہو جائیں۔جس جماعت میں صاحب کشوف و رویاء زیادہ ہو جاتے ہیں، وہ جماعت مضبوط ہو جاتی ہے۔کیونکہ انسان کی دلیل سے اتنی تسلی نہیں ہوتی جتنی تسلی کشف اور رویا سے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔(اقتباس افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع مجلس انصار الله مرکز یہ مورخہ ۲۶۔اکتوبر ۱۸۵۶ء بحوالہ الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۵۷ء اور ۲۴ مارچ ۱۹۵۷ء)