سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 103
۱۰۳ دوگروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے۔اسی طرح جماعت احمدیہ میں بھی دو زمانوں میں دو جماعتوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔پہلے جن لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ان میں سے اکثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابہ تھے۔کیونکہ یہ جماعت ۱۴ ۱۹۱۳ء میں بنائی گئی تھی اور اس وقت اکثر صحابہ زندہ تھے اور اس جماعت میں بھی اکثر وہی شامل تھے۔اسی طرح قرآن کریم میں بھی جن انصار کا ذکر آتا ہے ان میں زیادہ ترمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ شامل تھے۔دوسری دفعہ جماعت احمدیہ میں آپ لوگوں کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیا ہے جس طرح قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ادنی نبی حضرت مسیح ناصرٹی کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔آپ لوگوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کم ہیں اور زیادہ حصہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے میری بیعت کی ہے۔اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام والی بات بھی پوری ہوگئی۔یعنی جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا تھا۔اسی طرح مثیل مسیح موعود کے ساتھیوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔گویا قرآنی تاریخ میں بھی دو زمانوں میں دوگروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی دوگروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اب بھی زندہ ہیں مگر اب ان کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔صحابی اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو نبی کی زندگی میں اس کے سامنے آ گیا ہو۔گوزیادہ تر یہ لفظ انہی لوگوں پر اطلاق پاتا ہے جنہوں نے نبی کی صحبت سے فائدہ اٹھایا ہو اور اس کی باتیں سنی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے ہیں۔اس لئے وہ شخص بھی آپ کا صحابی کہلا سکتا ہے جس نے خواہ آپ کی صحبت سے فائدہ نہ اٹھایا ہو لیکن آپ کے زمانہ میں پیدا ہوا ہو اور اس کا باپ اسے اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے لے گیا ہو۔لیکن یہ ادنی درجہ کا صحابی ہوگا۔اعلیٰ درجہ کا صحابی وہی ہے جس نے آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں۔ان کی تعداد اب بہت کم رہ گئی ہے۔اب صرف تین چار آدمی ایسے رہ گئے ہیں جن کے متعلق مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں ہیں۔ممکن ہے اگر زیادہ تلاش کیا جائے۔تو ان کی تعداد میں یا چالیس تک پہنچ جائے۔اب ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں اگر ایسے تمیں چالیس صحابہ بھی ہوں ، تب بھی یہ تعداد بہت کم ہے۔اس وقت جماعت میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں