سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 102
۱۰۲ خلافت احمدیہ سے کامل وابستگی انصار اللہ کی اہم ذمہ داری افتتاحی تقریر دوسرا سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ مرکزیہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔يَاتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارُ اللَّهُ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِيِّ إِلَى الله قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ الله (سورۃ الصف آیت (۱۵) اس کے بعد فرمایا: آپ لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے۔یہ نام قرآنی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے اور احمدیت کی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے۔قرآنی تاریخ میں ایک دفعہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں۔چنانچہ جب آپ نے فرما یا مَنْ أَنصَارِى إِلَى الله تو آپ کے حواریوں نے کہا نَحْنُ أَنْصَارُ الله کہ ہم اللہ تعالیٰ کے انصار ہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے۔کہ ان میں سے ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور ایک گروہ انصار کا تھا۔گویا یہ نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے۔ایک جگہ پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق آیا ہے اور ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک حصہ کو انصار کہا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار اللہ کا دوجگہ ذکر آتا ہے۔ایک دفعہ جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی اور دوسری دفعہ جب جماعت کے بچوں ، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو چالیس سال سے اوپر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔گویا جس طرح قرآن کریم میں