سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 88
۸۸ دوسروں کی اصلاح کا اتنا فکر نہیں ہوتا جتنا اسے اپنے نفس کا فکر ہوتا ہے۔وہ سوچتا بے شک ہے کیونکہ اس نے اپنا ماضی بھی دیکھا ہوا ہوتا ہے۔اس نے دوسروں کا ماضی بھی دیکھا ہوا ہوتا ہے۔لوگوں کی خوبیاں اور برائیاں اور ان خوبیوں اور برائیوں کے نتائج سب اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔اس کے اپنے حالات زندگی بھی ایک ایک کر کے اس کے سامنے آتے ہیں اور دوسروں کے گذرے ہوئے واقعات بھی اس کی آنکھوں کے سامنے چکر لگاتے ہیں اور وہ ان سب حالات کو دیکھ کر سوچتا، غور کرتا، ان سے نتائج اخذ کرتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے، اب میں جانے کے لئے تیار ہوں۔اب میرا کام یہی ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کا حساب کرلوں۔پس اس وقت وہ حساب کر رہا ہوتا ہے اور جو شخص حساب کر رہا ہو اس کی توجہ کسی اور طرف نہیں ہوتی۔رات کو سوتے وقت جب بنیا اپنے تمام دن کی آمد کا حساب کر رہا ہو، اس وقت اگر تم بننے سے سودا مانگو تو تم دیکھو گے کہ وہ اس وقت سخت چڑ چڑا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اس وقت حساب کر رہا ہوتا ہے۔سودا دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس وقت اس کی جگہ کوئی اور آدمی دوکان پر ہو۔پس ایسے آدمی، جہاں تک حساب کا تعلق ہے، بے شک مفید ہوتے ہیں۔مگر ایسی عمر والوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کبھی لاہور جائیں کبھی پشاور جائیں کبھی انبالے جائیں کبھی گوجرانوالہ جائیں اور سب لوگوں سے کہتے پھریں کہ اٹھو اور بیدار ہو جاؤ! اسلام پر بڑا نازک وقت آیا ہوا ہے۔جماعت پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اگر تم اس ذمہ داری کو ادا نہ کرو گے تو خدا تعالیٰ کے حضور کیا جواب دو گے۔یہ کام وہ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا یہ زمانہ گذر چکا ہوتا ہے۔پس میں نے انصار اللہ کے لئے چالیس سال سے او پر عمر کی شرط لگائی تھی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ میں چاہتا تھا کہ ان کو کام کرنے کے لئے وہ جوان ہمت لوگ بھی مل جائیں جن پر ابھی جوانی جیسا ہی زمانہ ہوتا ہے اور جو اپنے اندر کام کرنے کی کافی طاقت رکھتے ہیں اور ایسے آدمی بھی میسر آجائیں جن کے دماغ اعلیٰ درجہ کے ہوں اور جولوگوں کی نگرانی کا کام پوری احتیاط کے ساتھ کر سکیں۔مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور صرف ایسے ہی لوگوں کو لے لیا گیا ، جن کا نام میں نے لیا تھا۔حالانکہ میں نے وہ نام اس لئے لئے تھے کہ میرے نزدیک وہ نگران اور محافظ بن سکتے تھے۔نہ اس لئے کہ وہ دوڑنے بھاگنے کا کام بھی کر سکتے تھے۔اس قسم کے کام کرنے کے لئے انہیں چاہئے تھا کہ وہ ایسے لوگ سیکرٹریوں کے ساتھ مقرر کر دیتے ، جن کے قومی میں طاقت ہوتی۔جن کے ہاتھوں اور پاؤں میں چلنے پھر نے اور دوڑنے بھاگنے کی ہمت ہوتی تاکہ وہ اپنے مفوضہ فرائض کو عمدگی سے سرانجام دے سکتے۔میں سمجھتا