سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 89

ہوں ۸۹ انصار اللہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے گزر رہے ہیں۔اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان جانے کی فکر میں ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اگلے جہان جارہا ہو تو اس وقت اسے اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے کوچ نہ کر جائے کہ اس کا حساب گندہ ہو، اس کے اعمال خراب ہوں ، اور اس کے پاس وہ زادراہ نہ ہو جو اگلے جہاں میں کام آنے والا ہے۔جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندہ اور خدا کا تعلق درست ہو جائے ، تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایسے حصہ میں اس کا احساس جس قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہئے ، وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہوسکتا۔نو جوان تو خیال بھی کر سکتے ہیں کہ اگر ہم سے خدمت خلق میں کوتا ہی ہوئی تو انصار اللہ اس کام کو ٹھیک کر لیں گے مگر انصار اللہ کس پر انحصار کر سکتے ہیں۔وہ اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتا ہی سے کام لیں گے اور اگر دین کی محبت اپنے نفوس میں اور پھر تمام دنیا کے قلوب میں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہونگے ، وہ اگر احمدیت کی اشاعت کو اپنا اولین مقصد قرارد نہ دیں گے، اور اگر وہ اس حقیقت سے اغماض کر لیں گے کہ انہوں نے اسلام کو دنیا میں پھر زندہ کرنا ہے تو انصار اللہ کی عمر کے بعد اور کون سی عمر ہے جس میں وہ کام کریں گے۔انصار اللہ کی عمر کے بعد تو پھر ملک الموت کا زمانہ ہے اور ملک الموت اصلاح کے لئے نہیں آتا۔بلکہ وہ اس مقام پر کھڑا کرنے کے لئے آتا ہے جب کوئی انسان سزایا انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر انصار اللہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ