سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 15
۱۵ جائے اور جبر ان سے احکام کی تعمیل کرائی جائے۔ڈنڈے سے میری مراد سوٹا نہیں۔جبر اور حکم مراد ہے۔بہر حال ان لوگوں نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں جماعت کے سامنے یہ اعلان کر دوں کہ آج سے قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری ہوگا۔ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔اگر ۱۵ سے ۴۰ سال تک کی عمر کا کوئی احمدی ۱۵ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھائے گا تو پہلے اسے سزادی جائے گی اور اگر اس سے بھی اس کی اصلاح نہ ہوئی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اس کے لئے کسی کو تحریک کرنے کی ضرورت نہیں۔خدام الاحمدیہ ہرگز کسی کے پاس نہ جائیں، ہاں ہر مسجد میں وہ اپنے بعض آدمی مقرر کر دیں اور ہر نماز کے بعد اعلان ہوتا رہے کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک ہمارا آدمی مسجد میں بیٹھے گا جس نے خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا نا ہو وہ اسے نام لکھا دے اور محلوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ اس کے متعلق خدام الاحمدیہ کی طرف سے جو بھی اعلانات آئیں ، ان کے سنانے کا فوری طور پر انتظام کریں۔جو پریذیڈنٹ یا سیکرٹری اس میں غفلت سے کام لے گا وہ مجرم سمجھا جائے گا اور اسے سزا دی جائے گی۔غرض تمام مساجد میں خدام الاحمدیہ اعلان کر دیں کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک اس مسجد میں ہمارا فلاں آدمی بیٹھے گا اسے نام لکھا دیا جائے۔بلکہ انہیں اپنے بعض آدمی قریب کے دیہات میں بھی مقرر کر دینے چاہئیں، جیسے نواں پنڈ وغیرہ ہے۔اس پندرہ دن کے عرصہ میں جو شخص خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھائے گا ہم پہلے اس پر کیس چلائیں گے۔اگر کوئی معذور ثابت ہوا، مثلاً ان دنوں وہ قادیان میں موجود نہ تھا یا چار پائی سے ہل نہیں سکتا تھا تو اس کو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کا دوبارہ موقعہ دیتے ہوئے ، باقی ہر ایک کو جس نے ان دنوں خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھایا ہوگا ، سزادی جائے گی اور اگر وہ سزا برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ہم سزا نہیں لیتے ، ہم خدام الاحمدیہ کے مبر نہیں رہنا چاہتے۔ان کے متعلق خدام الاحمدیہ فورا ایک کمیٹی بٹھا دیں، جو تحقیق کرے کہ ان پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں۔پھر جن کا جرم ثابت ہو جائے، انہیں تین تین دن کے مقاطعہ کی سزا دی جائے۔ان تین دنوں میں کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ ان سے بات چیت کرے۔نہ باپ کو اجازت ہوگی ، نہ ماں کو اجازت ہوگی، نہ بیوی کو اجازت ہوگی، نہ بیٹے کو اجازت ہوگی اور نہ کسی اور قریبی رشتہ دار اور دوست کو