سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 16

۱۶ اجازت ہوگی۔اسی طرح ان دنوں میں انہیں قادیان سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔مبادا وہ خیال کر لیں کہ ان دنوں وہ قادیان سے چلے جائیں گے اور اس طرح اپنے جرم کو چھپالیں گے۔بلکہ انہیں قادیان میں رہتے ہوئے یہ تین دن پورے کرنے پڑیں گے اور ان کی کسی قریب ترین ہستی کو بھی ان سے بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ہاں انہیں صبح شام روٹی پہنچانا خدام الاحمدیہ کا کام ہو گا۔اسی طرح جن لوگوں نے وعدہ کر کے کام نہیں کیا، ہوائے دسویں جماعت کے طلباء کے (جن کو مقرر کرنے میں خود خدام الاحمدیہ کے افسروں کی غلطی ہے ) ، ان کے الزام کی بھی تحقیق کی جائے اور جب الزام ان پر ثابت ہو جائے تو ان کو بھی ایک دن کے مقاطعہ کی سزادی جائے گی۔اس عرصہ میں ماں اور باپ اور بیوی اور بچوں اور دوسرے تمام رشتہ داروں کا فرض ہے کہ جس طرح ایک گندا چیتھڑا اپنے گھر سے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔اسی طرح وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیں۔باپ بچے کو نکال دے، بھائی دوست وغیرہ سب اس دن کے لئے اس سے قطع تعلق کر لیں اور وہ گھر چھوڑ کر مسجد یا کسی اور مناسب مقام پر چلا جائے اور چوبیس گھنٹے لگا تارو ہیں رہے۔ہاں ان لوگوں کو بھی کھانا پہنچا نا خدام الاحمدیہ کا کام ہوگا۔مگر میں سمجھتا ہوں کام کی ذمہ داری صرف پندرہ سے چالیس سال کی عمر والوں پر ہی نہیں بلکہ اس سے اوپر اور نیچے والوں پر بھی ہے۔اس لئے میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ ایک مہینہ کے اندراندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو منظم کریں اور اطفال الاحمدیہ کے نام سے ان کی ایک جماعت بنائی جائے اور میرے ساتھ مشورہ کر کے ان کے لئے مناسب پروگرام تجویز کیا جائے۔اسی طرح چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں۔وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ان کے لئے بھی لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کر یں۔اگر مناسب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ کام لینے کی بجائے ، مہینہ میں تین دن یا کم و بیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔مگر بہر حال تمام بچوں، بوڑھوں اور نو جوانوں کا بغیر کسی استثناء کے قادیان میں منظم ہو جانا لازمی ہے۔