سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 14

۱۴ دے سکتے بلکہ انہیں احمدیت سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔یہ پانچ کام ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے گئے۔یہی پانچ کام ہیں جو صحابہ نے کئے اور یہی پانچ کام ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے۔ہر شخص جو يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِہ کے مطابق تعلیم قرآن کا کام نہیں کرتا بلکہ تعلیم قرآن کے کام سے گریز کرتا ہے۔وہ اس سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ہر شخص جو تبلیغ سے گریز کرتا ہے، وہ تبلیغ سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ہر شخص جو دوسروں کی تربیت سے گریز کرتا ہے، وہ تربیت کرنے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ہر شخص جو شرائع کی حکمتیں بتانے سے گریز کرتا ہے، وہ شرائع کی حکمتیں بتانے سے گریز نہیں کرتا بلکہ وہ احمدیت سے گریز کرتا ہے اور ہر وہ شخص جوتز کیہ نفوس یا جماعت کی اقتصادی اور مالی ترقی کی تجاویز میں حصہ لینے سے گریز کرتا ہے، وہ تزکیۂ نفوس یا جماعت کی اقتصادی اور مالی ترقی کی تجاویز میں حصہ لینے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ایسے شخص کی نہ احمدیت کو کوئی ضرورت ہو سکتی ہے اور نہ اس کے لئے کوئی وجہ ہے کہ وہ احمدیت میں داخل رہے۔وہ یہ کہہ کر کہ وہ احمدی ہے، اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے۔یا اگر اپنے نفس کو دھوکا نہیں دیتا تو جھوٹا اور مکار ہے اور ہر گز اس قابل نہیں کہ وہ مومنوں کی جماعت میں شامل رہ سکے۔یہ پانچ کام ضروری ہیں اور جماعت کے ہر فرد کو ان میں حصہ لینا پڑے گا اور جب تک وہ طوعا یا کر ہا ان کاموں میں حصہ نہیں لیں گے۔وہ کبھی صحیح معنوں میں صحابہؓ کے مثیل نہیں کہلا سکیں گے۔آخر تمہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا صحابہ اپنی مرضی سے ہی تمام کام کیا کرتے تھے۔وہ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی متابعت میں تمام کام کرتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جہاد کے لئے چلو اور سب چل پڑتے تھے اور جونہ چلتا تھا اسے جبری طور پر لے جایا جاتا تھا۔میں نے چاہا تھا کہ طوعی طور پر جماعت کو ان قربانیوں میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کیا جائے۔مگر معلوم ہوتا ہے ساری جماعت طوعی طور پر قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں۔بلکہ اس کا ایک حصہ منافقوں پر مشتمل ہے اور وہ ہمیں اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ ہم اسے اپنی جماعت میں سے خارج کر دیں۔یا اگر وہ منافق نہیں تو ایسے کون لوگ ہیں جو ڈنڈے کے محتاج ہیں اور جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو سزا دی تھی جو جہاد کے لئے نہیں گئے تھے۔اسی طرح وہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں سزادی