سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 92
۹۲ اور کبھی نظام سوتا ہے اور عوام جاگتے ہیں، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام بھی جاگتا ہے اور عوام بھی جاگتے ہیں اور وہ وقت بڑی بھاری کامیابی اور فتوحات کا ہوتا ہے۔وہ گھڑیاں جب کسی قوم پر آتی ہیں جب نظام بھی بیدار ہوتا ہے اور عوام بھی بیدار ہوتے ہیں۔تو وہ اس قوم کے لئے فتح کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لئے کامیابی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لئے ترقی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ شیر کی طرح گرجتی اور سیلاب کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے۔ہر روک جو اس کے راستہ میں حائل ہوتی ہے اسے مٹا ڈالتی ہے۔ہر عمارت جواس کے سامنے آتی ہے اسے گرا دیتی ہے۔ہر چیز جو اس کے سامنے آتی ہے اسے بکھیر دیتی ہے اور اس طرح وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف، اس طرف بھی اور اس طرف بھی، بڑھتی چلی جاتی ہے اور دنیا پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔مگر پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب نظام سو جاتا ہے او ر عوام جاگتے ہیں۔یا عوام سو جاتے ہیں اور نظام جاگتا ہے اور پھر آخر میں وہ وقت آتا ہے۔جب نظام بھی سو جاتا ہے اور عوام بھی سو جاتے ہیں۔تب آسمان سے خدا تعالیٰ کا فرشتہ اترتا ہے اور اس قوم کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔یہ قانون ہمارے لئے بھی جاری ہے، جاری رہیگا اور بھی بدل نہیں سکے گا۔پس اس قانون کو دیکھتے ہوئے ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ہمارا نظام بھی بیدار ر ہے اور ہمارے عوام بھی بیدار ر ہیں۔اور درحقیقت یہ زمانہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے۔خدا کا مسیح ہم میں ابھی قریب ترین زمانہ میں گذرا ہے۔اس لئے اس زمانہ کے مناسب حال ہمارا نظام بھی بیدار ہونا چاہئے اور ہمارے عوام بھی بیدار ہونے چاہئیں۔مگر چونکہ دنیا میں اضمحلال اور قوتوں کا انکسار انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔اس لئے عوام کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ یہ نظام کو جگاتے رہیں اور نظام کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ عوام کو جگاتا رہے۔تا خدانخواستہ اگر ان دونوں میں سے کوئی سو جائے ، غافل ہو جائے اور اپنے فرائض کو بھول جائے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے اور اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ اس دن کو بعید کر دیں جب نظام اور عوام دونوں سو جاتے ہیں اور خدائی تقدیر موت کا فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔پس دونوں کو اپنے اپنے فرض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اگر دونوں نہ جاگیں تو کم از کم ایک تو جاگے اور اس طرح وہ دن ، جو موت کا دن ہے ہم سے زیادہ سے زیادہ دور رہے۔