سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 91

۹۱ سے نیچے نیچے ہر شخص سوائے کسی معذور یا بیمار کے اپنے اندر کام کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔پس جو عمران کے لئے رکھی گئی ہے، اس کے لحاظ سے ایک بہت بڑا حصہ جواں ہمت لوگوں کا ان کے اندر پایا جاتا ہے اور وہ اگر چاہیں تو اچھی طرح کام کر سکتے ہیں۔اگر ایسے لوگوں کو آگے آنے اور کام کرنے کا موقعہ دیا جاتا اور زیادہ عمر کے لوگ صرف نگرانی اور محافظت کا کام کرتے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ ایک طرف تو نوجوان بڑوں کی نگرانی میں کام کرنے کا طریق سیکھ جاتے اور دوسری طرف وہ جوش سے کام لے کر لوگوں کے اندر بیداری بھی پیدا کر دیتے۔مگر چونکہ ایسے لوگوں کو آگے آنے کا موقعہ نہیں دیا گیا اس لئے ” تقاضائے عمر“ سمجھ کر ہی بات ختم کر دی گئی اور انصار اللہ میں بیداری پیدا نہ ہوئی۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کے مخلصین کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔یاد رکھو! اگر اصلاح جماعت کا سارا دارو مدار نظارتوں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی لمبی نہیں ہو سکتی۔یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا کہ ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ایک حصہ غافل ہوگا اور ایک حصہ ہوشیار ہوگا۔خدا تعالیٰ نے دنیا کو گول بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات داخل ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوئے اور ایک حصہ جاگے۔کبھی دنیا کا ایک حصہ جاگتا ہے اور دوسرا سوتا ہے۔کبھی دوسرا جاگتا ہے اور پہلا سوتا ہے۔چاہے تم ساری دنیا کو فرشتوں سے بھی لا کر بھر دو پھر بھی ایسا ہی ہوگا کہ آدھی دنیا سوئے گی اور آدھی دنیا جاگے گی۔ایسی صورت میں کام کو زندہ اور جاری رکھنے کا بہترین طریق یہ ہوا کرتا ہے کہ کام دونوں کے سپرد کر دیا جائے۔اس دنیا کے بھی سپر د کر دیا جائے جو ایک طرف ہے اور اس دنیا کے بھی سپر د کر دیا جائے جو دوسری طرف ہے۔اگر ایک طرف سوئے گی تو دوسری طرف جائے گی اور اگر دوسری طرف سوئے گی تو پہلی طرف اس کام کو زندہ رکھے گی۔یہی تقدیر اور تدبیر کا باریک نکتہ ہے۔خدا تعالیٰ سوتا نہیں مگر خدا کبھی سونے والے کی طرح ہو جاتا ہے جیسے فرمایا افطِرُ وَ أَصُومُ تا کہ دنیا کو بیداری کا موقع دے اور جب دنیا تھک جاتی ہے تو خدا اپنا کام شروع کر دیتا ہے یہی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔جو در حقیقت پر تو ہیں تقدیر اور تدبیر کے۔کبھی عوام سوتے ہیں اور نظام جاگتا ہے،