سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 90
وہ اپنے فرائض کو سمجھیں۔ایک دفعہ پہلے بھی میں نے انہیں کہا کہ وہ بھی خدام الاحمدیہ کی طرح سال میں ایک دفعہ خاص طور پر باہر سے لوگوں کو بلوایا کریں۔تا کہ ان کے ساتھ مل کر اور گفتگو اور بحث و تمحیص کر کے انہیں دوسروں کی مشکلات کا احساس ہو اور وہ پہلے سے زیادہ ترقی کی طرف قدم اٹھا سکیں۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے مشورہ سے انسان بہت کچھ فائدہ اٹھالیتا ہے۔غالباً ایک سال ہوا جب میں نے اس امر کی طرف انہیں توجہ دلائی تھی مگر اب تک انصار اللہ کا کوئی جلسہ نہیں ہوا۔یہ بات بھی ان کی مردنی پر دلالت کرتی ہے۔پچھلی دفعہ جب خدام الاحمدیہ کا جلسہ ہوا تو میں نے بعض انصار اللہ کی آواز میں سنیں کہ ہم کو بھی آئندہ ایسا جلسہ کرنا چاہئے۔مگرعمر کا تقاضا تھا کہ انہوں نے کہنے کو تو یہ بات کہہ دی لیکن چونکہ ان کے ہاتھ پاؤں چلتے نہیں تھے اس لئے وہ کوئی عملی قدم نہ اٹھا سکے۔حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی بوڑھا شخص کسی طبیب کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے یہ تکلیف ہے، وہ تکلیف ہے، یہ عارضہ ہے، وہ عارضہ ہے، طبیب نے دیکھا کہ اس کی عمر بڑی ہو چکی ہے اور یہ تکلیفیں اب مستقل شکل اختیار کر چکی ہیں ، دواؤں سے جانے والی نہیں۔اس لئے جب بھی وہ کوئی تکلیف بیان کرتا ، طبیب کہہ دیتا ہاں ٹھیک ہے، تقاضائے عمر ہے۔پانچ سات دفعہ اس نے شکائتیں بیان کیں۔اور پانچ سات دفعہ ہی طبیب یہی کہتا رہا کہ آپ درست کہتے ہیں۔مگر عمر کا تقاضا ہی ایسا ہے۔جب بار بار طبیب نے ایسا کہا تو اسے غصہ آگیا کہ یہ عجیب طبیب ہے اور اسے گالیاں دینے لگ گیا کہ تو بڑا خبیث اور بے ایمان ہے۔تیرا کام نسخہ لکھ کر دینا ہے یا ہر بات پر یہ کہہ دینا ہے کہ تقاضائے عمر ہے۔جب وہ اپنا جوش نکال چکا تو طبیب کہنے لگا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔تو ان کے اندر جوش تو پیدا ہوا مگر جلسہ نہ ہوا۔یہ بھی تقاضائے عمر ہی تھا۔مگر بہر حال میں نے جان بوجھ کر انصار اللہ میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی رکھا تھا جن کا تقاضائے عمر کام کرنا ہو۔تقاضائے عمر کام نہ کرنا نہ ہو۔میں نے چالیس سال سے اوپر عمر والوں کو انصار اللہ میں شامل کیا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ایک بڑا طبقہ ایسے لوگوں کا ان کے پاس موجود ہے جو اپنے اندر کام کرنے کی روح رکھتا ہے اور طاقت وقوت کے لحاظ سے بھی وہ نوجوانوں سے کم نہیں۔ساٹھ سال سے اوپر جا کر انسان کے قومی میں انحطاط شروع ہوتا ہے۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تریسٹھ سال سے اوپر کی عمر والوں کے متعلق بھی یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اب اس عمر والوں کا بیٹھنے کا زمانہ ہے کام کرنے کا نہیں۔اس