سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 29

۲۹ نگاہ میں چند منافقوں کے پائے جانے کی وجہ سے ہماری جماعت بدنام نہیں ہوسکتی۔چنانچہ دیکھ لو با وجود اس کے کہ ہماری جماعت میں بعض لوگ ایسے موجود ہیں ، جوست ہیں پھر بھی غیر احمدی شرفاء یہی کہتے ہیں جماعت احمدیہ سے بڑھ کر دین کی خدمت کرنے والی اور کوئی جماعت نہیں۔اسی طرح احمد یوں میں بعض بے نماز بھی ہوتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ احمدیوں میں سو میں سے ایک یا دو بے نماز ہیں ، بلکہ لوگوں کا سمجھدار اور شریف الطبع طبقہ یہی کہتا ہے کہ احمدی بڑے نمازی ہوتے ہیں۔اسی طرح سارے احمدی تو با قاعدہ چندے نہیں دیتے، کچھ لوگ سست بھی ہیں۔مگر تم شریف الطبع لوگوں سے یہی سنو گے کہ احمدی بڑا چندہ دیتے ہیں۔کہ وہ سمجھتے ہیں جماعت کی اکثریت نیکی پر قائم ہے اور وہ بعض افراد کی کمزوری کو دیکھ کر ساری جماعت پر الزام عائد نہیں کرتے۔مگر وہ لوگ جو اپنے اندر شرافت نہیں رکھتے وہ کسی ایک کمزور احمدی کو دیکھ کر ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ احمدی بے نماز ہیں یا احمدی چندوں میں سست ہیں۔بے شک ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کا مونہہ بند کرنے کی کوشش کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم جماعت کی ایسی تربیت کریں کہ اس میں ایک شخص بھی ایسا دکھائی نہ دے جو چندہ نہ دیتا ہو۔اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو نماز کا پابند بنائیں اور اس قدر کوشش کریں کہ ایک بھی بے نماز نہ رہے اور اس مقصد کے لئے میں اگر کوئی خطبہ پڑھوں اور جماعت کو بیدار کرنے اور اس کی قوت عملیہ میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کروں تو یہ کوئی معیوب بات نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔کیونکہ ایک خرابی بھی ہم میں کیوں موجود رہے لیکن اس نیکی کو سو فیصدی مکمل کرنے کے لئے ہم اپنی طرف سے جو کوشش کریں اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ ہماری جماعت میں نیکی ہی نہیں۔نیکی تو موجود ہے اور جماعت کی اکثریت میں موجود ہے، مگر اسے تمام پہلوؤں سے مکمل کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وقتاً فوقتاً بعض کمزور لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے۔غیر احمدیوں سے ہی پوچھ کر دیکھ لو جہاں جہاں احمدی موجود ہیں وہ ان کے متعلق یہی رائے دیں گے کہ احمدی بڑے بچے ہوتے ہیں۔احمدی بڑے نیک ہوتے ہیں۔احمدی بڑے نمازی اور خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کرنے والے ہوتے ہیں۔حالانکہ ان احمدیوں میں کمزور بھی ہوتے ہیں لیکن شریف الطبع لوگوں کا یہی دستور ہے کہ وہ اکثریت کی نیکی کا ذکر کرتے ہیں اور بعض افراد کی کمزوری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کا نمونہ ایسا ہی ہوگا اور جیسا کہ میرے پاس رپورٹیں پہنچتی رہی ہیں۔ان میں سے غالب اکثریت نے اس تنظیم میں اپنے آپ کو شامل کر لیا ہے لیکن میں دوستوں