سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 21

۲۱ اصطلاحیں مسلمانوں میں رائج ہیں یا کافر کی اصطلاح یا مسلمان کی اصطلاح۔اگر با واصاحب مسلمان بمعنے ولی اللہ نہیں تو دوسرے لفظوں میں وہ نعوذ باللہ کا فر اور خدا سے دور تھے۔اب آپ ہی سوچ لیں کہ بادا صاحب کو مسلمان کہنے سے ان کی بہتک ہوتی ہے یا ان کو مسلمان نہ کہنے سے ان کی ہتک ہوتی ہے۔احرار کا تو اس اعتراض سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ احمدی باوا صاحب کی تعریف کیوں کرتے ہیں۔مگر سکھ نا واقفیت کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ احرار ان کی تائید کر رہے ہیں اور احمدی انہیں گالی دے رہے ہیں۔میں نے جب یہ اشتہار شائع کیا تو چونکہ وہ آدمی سمجھ دار تھے، اس لئے انہوں نے دوسرے ہی دن جلسہ گاہ میں سٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا کہ تم نے مجھے سخت ذلیل کرایا ہے۔کیونکہ جو باتیں تم نے مجھے بتائی تھیں وہ اور تھیں اور جو باتیں اس اشتہار میں لکھی ہیں وہ بالکل اور ہیں۔میر امنشاء اس مثال سے یہ ہے که با وجود اس بات کے کہ سکھ تمام قوموں میں سے کم ہیں ، پھر بھی وہ اپنے آپ کو اتنا طاقتور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک موقعہ پر ہمیں یہ نوٹس دے دیا کہ وہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور ایک نے تو یہاں تک کہ دیا کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔تو قومی لحاظ سے غیر اقوام کے مقابلہ میں ہم پہلے ہی تھوڑے ہیں۔پھر اگر ان منافق طبع لوگوں کو اپنی جماعت سے نکال دینے پر بھی ہم تھوڑے ہی رہتے ہیں اور ان کے ساتھ رہنے سے زیادہ نہیں ہو سکتے تو کوئی وجہ نہیں کہ جب ان کا وجود دوسرے لوگوں کے لئے مضر ثابت ہورہا ہو، انہیں جماعت سے خارج نہ کیا جائے لیکن اگر خدا کے رسولوں کی جماعتیں کثرت تعداد کی بناء پر نہیں بلکہ خدا کی نصرت اور اس کی مدد کے ساتھ جیتا کرتی ہیں۔تو اس صورت میں خواہ یہ لوگ نکل جائیں ، پھر بھی گو ہم موجودہ وقت سے تھوڑے ہو جائیں گے مگر شکست نہیں کھا سکتے ممکن ہے پیغامی یہ کہنا شروع کر دیں کہ پہلے تو اپنے زیادہ ہونے کو صداقت کی دلیل قرار دیتے تھے اب کہتے ہیں کہ تھوڑے ہو کر بھی ہم ہی حق پر رہیں گے۔ایک ہی وقت میں یہ تمہاری دونوں باتیں کس طرح درست ہو سکتی ہیں۔سو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میری دونوں باتیں درست ہیں۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم تھوڑے ہو کر بھی شکست نہ کھائیں گے ، اس وقت بھی میں ایک حقیقت بیان کرتا ہوں اور جب میں کہتا ہوں کہ ہم زیادہ ہیں اس لئے حق پر ہیں۔تو اس وقت بھی میں ایک حقیقت بیان کیا کرتا ہوں۔ہم تھوڑے ہیں غیر اقوام کے مقابلہ میں۔اور ہم زیادہ ہیں اس لحاظ سے کہ نبی کی جماعت کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔پس جب میں نے یہ کہا کہ ہم تھوڑے ہو کر بھی شکست نہیں کھا سکتے ، تو اس کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح