سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 20
۲۰ جائے گی۔بلکہ ان کے ایک ساتھی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔مجھے جب یہ رپورٹ پہنچی تو میں نے ایک اشتہار لکھا ، جس میں میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ احمدیوں کے مظالم کی داستان بالکل غلط ہے۔اگر آپ اس علاقہ کے سکھوں کو قسم دے کر پوچھیں تو ان میں سے نانوے فیصدی آپ کو یہ بتائیں گے کہ میں اور میرا خاندان اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے، ہمیشہ سکھوں سے محبت کا برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ میں نے اپنے حسن سلوک کے کئی واقعات تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے پیش کئے۔اس ضمن میں مجھے یہ رپورٹ بھی ملی کہ ایک احراری نے ان کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سکھ بڑے بے غیرت ہیں کہ احمدی ان کے گرو کو مسلمان کہہ کر ان کی ہتک کرتے ہیں اور پھر بھی ان کو جوش نہیں آتا۔میں نے ان کو سمجھایا کہ رسول کریم صلی اللہ وسلم کے بعثت کے بعد مسلمانوں کے نزدیک دنیا میں دو ہی گروہ ہیں۔یا مسلمان یا کافر۔اس احراری کے نزدیک با وا صاحب کو مسلمان کہنے سے ان کی ہتک ہوتی ہے تو اس سے پوچھیں کہ وہ با واصاحب کو کیا سمجھتا ہے۔اگر تو وہ مسلمان ولی اللہ سے بڑھ کر با وا صاحب کو کوئی درجہ دے، تو آپ سمجھ لیں کہ وہ آپ کا خیر خواہ ہے اور اگر اس کا یہ مطلب ہو کہ با وا صاحب چونکہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر تھے اس لئے کا فر تھے، تو یہ بتائیں کہ باوا صاحب کی بہتک کرنے والا وہ ہو یا ہم۔ہم تو انہیں مسلمان، ولی اللہ کے معنوں میں کہتے ہیں اور مسلمان ولی اللہ سے اوپر مسلمانوں کے نزدیک صرف رسول اور پیغمبر ہی ہوتے ہیں۔پس ہمارا ان کو مسلمان کہنا کسی تحقیر کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم ان کو ویسا ہی قابل عزت سمجھتے ہیں جیسے ہمارے نزدیک مسلمان اولیاء قابل عزت ہوتے ہیں۔ہمارا انہیں مسلمان کہنے سے یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ نعوذ باللہ ان ادفی لوگوں کی طرح تھے جو سکھوں کے گاؤں میں بستے ہیں اور گو مسلمان کہلاتے ہیں مگر اسلام سے انہیں کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔کیونکہ ہم ان کی دنیا وی حیثیت سے ان کو مسلمان نہیں کہتے بلکہ ان کو دینی لحاظ سے مسلمان کہتے ہیں اور دینی لحاظ سے مسلمان کے معنی ولی اللہ کے ہوا کرتے ہیں۔مگر عام طور پر چونکہ سکھوں کے گاؤں میں مسلمان کمین ہوا کرتے ہیں اور دنیا داروں کی نگاہ میں کمین حقیر خیال کئے جاتے ہیں۔اس لئے وہ خیال کر لیتے ہیں کہ جیسے ہمارے گاؤں کے کمین مسلمان ہیں ویسا ہی مسلمان یہ ہمارے با وا صاحب کو سمجھتے ہیں۔حالانکہ ہم اس نقطہ نگاہ سے انہیں مسلمان نہیں کہتے۔بلکہ مسلمان کا لفظ ان کے ولی اللہ ہونے کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔اگر آپ کو یہ لفظ بر امحسوس ہوتا ہے تو آپ ہی بتائیں کہ ہم انہیں کیا کہیں۔ہمارے نزدیک تو مسلمانوں کے سوا جتنے لوگ ہیں، سب کافر ہیں اور دوہی