سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 22
۲۲ موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا زیادہ حصہ ہم سے الگ ہو جائے گا اور قلیل حصہ ہمارے ساتھ رہ جائے گا۔کیونکہ جماعت کی اکثریت بہر حال ہمارے ساتھ رہے گی اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی کی جماعت کی اکثریت گمراہ ہو جائے۔اگر کسی وقت اکثریت کو غلطی لگے تو وہ غلطی پر قائم نہیں رہ سکتی بلکہ چند دنوں میں ہی اسے غلطی کی اصلاح کا موقعہ مل جاتا ہے۔جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں حضرت علی کی خلافت کے عہد میں ہوا۔پس میں نے اپنے آپ کو تھوڑا دنیا کی اور اقوام کے مقابلہ میں قرار دیا ہے اور میں نے یہ نہیں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت قلیل رہ جائے گی۔کیونکہ جب تک جماعت کے دلوں میں نور ایمان باقی ہے یہ ناممکن ہے کہ اس کی اکثریت بگڑ جائے۔پھسلنے والے پھلیں گے گرنے والے گریں گے اور جدا ہونے والے جدا ہوں گے، مگر اکثریت پھر بھی ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔پس پیغامی یا ان کے گماشتے مصری، میرے ان الفاظ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اکثریت ہمارے ساتھ رہے گی اور انشاء اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔اگر بعض منافق یا کمزور طبع لوگ اپنی ایمانی کمزوری کا ثبوت دیتے ہوئے ہم سے الگ ہو جائیں گے تو وہ پھر بھی اکثریت قرار نہیں پائیں گے۔بلکہ اکثریت ہمارے ساتھ رہے گی اور وہ ہمارے مقابلہ میں تھوڑے ہی رہیں گے۔کیونکہ نبیوں کی جماعتوں کے اندر شروع زمانہ میں منافق اور فتنہ وفساد پیدا کرنے والے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں اور مومن زیادہ ہوتے ہیں۔پس جب میں اپنے متعلق تھوڑے کا لفظ بولتا ہوں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ ہم احمدی کہلانے والوں کے مقابلہ میں تھوڑے ہیں۔بلکہ غیر اقوام مراد ہوتی ہیں اور میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کے مقابلہ میں بالکل قلیل ہیں لیکن احمدی کہلانے والے غیر مبایعین کے مقابلہ میں ہم زیادہ ہیں اور زیادہ ہی رہیں گے۔انشاء اللہ پس میں اس خطبہ کے ذریعہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو پوزیشن ہم نے دیانت داری کے ساتھ تسلیم کی ہوئی ہے۔ہمیں اس کے مطابق اپنے اعمال میں تغیر پیدا کرنا چاہئے۔اسی طرح صحابہ کی جو پوزیشن ہمارے نزدیک مسلّم ہے۔وہی پوزیشن ہمیں اختیار کرنی چاہئے۔صحابہ کی پوزیشن یہ تھی کہ انہیں حکم دیا جاتا اور وہ فوراً اطاعت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور یہی پوزیشن ہماری ہونی چاہئے۔جو شخص یہ پوزیشن اختیار نہیں کرتا، ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو امتی نبی مانتا ہے۔کیونکہ امتی نبی ماننے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ جو کچھ صحابہ نے کیا وہی ہم کریں اور اگر کوئی شخص صحابہ کے سے کام نہیں کرتا تو اس کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آزاد نبی مانتا ہے۔اس صورت میں اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق