سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 19
۱۹ مماثلت کے کوئی معنے ہیں۔مگر اس صورت میں تمہارا مقام قادیان میں نہیں بلکہ لاہور میں ہوگا کیونکہ وہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل کامل نہیں تھے۔جس کے لازمی معنی یہ بنتے ہیں کہ جب مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو وہ صحابی بھی نہیں۔مگر ان میں بھی شتر مرغ والی بات ہے کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ مرزا صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل کامل یعنی نبی نہیں تھے۔مگر کہتے اپنے آپ کو صحابی ہی ہیں۔حالانکہ اگر مرزا صاحب نبی نہیں تو وہ صحابی کس طرح ہو گئے۔چنانچہ بار بار ہمارے مقابلہ میں غیر مبایعین نے اپنے اکابر کو صحابہ کے طور پر پیش کیا ہے۔گویا مولوی محمد علی صاحب تو صحابی بن گئے مگر مرزا صاحب ان کے نزدیک مخصوص عالم ہی رہے۔پس ایسے لوگوں کا مقام لا ہور ہے، قادیان نہیں۔ہر چیز جہاں کی ہو وہیں سجتی ہے۔ان کو بھی چاہئے کہ قادیان سے اپنا تعلق تو ڑ کر لاہور سے اپنا تعلق قائم کر لیں۔پھر ہم ان کاموں کے متعلق ان سے کچھ نہیں کہیں گے۔مگر جب تک وہ ہم میں شامل رہیں گے، ہم ان سے دین کی خدمت کا کام نظام کے ماتحت ضرور کرائیں گے اور اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ ایسے کمزور لوگوں کواپنی جماعت سے خارج کر دیں۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ کوئی جماعت کثرت تعداد سے نہیں جیتی قرآن کریم نے بھی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِاذْنِ اللهِ (البقره آیت 250) یعنی کئی دفعہ قلیل التعداد جماعتیں کثیر تعد ا در رکھنے والی اقوام پر غالب آجایا کرتی ہیں۔پس محض کثرت کچھ چیز نہیں اگر اس کثرت میں ایمان اور اخلاص نہیں۔پھر میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہم میں شامل ہی رہیں تو کسی قوم کے مقابلہ میں بھلا ہمیں کون سی غیر معمولی فوقیت حاصل ہو سکتی ہے۔ہندوستان میں سب سے کم تعداد سکھوں کی سمجھی جاتی ہے مگر وہ بھی تمیں چالیس لاکھ ہیں اور ہم تو ان سکھوں کے مقابلہ میں بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔آج سے چھ سال پہلے مئی ۱۹۳۴ء میں سردار کھڑک سنگھ صاحب جو سکھوں کے بے تاج بادشاہ کہلایا کرتے تھے، یہاں آئے۔اور انہوں نے بسراواں میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا قادیان میں احمدی سکھوں پر سخت ظلم کر رہے ہیں۔اگر احمدی اس ظلم سے باز نہ آئے تو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادی