سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 18

۱۸ اکثر جگہ قائم ہی ہیں۔اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے مجالس انصار اللہ قائم کرنی چاہیں۔ان مجالس کے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصاراللہ کے قواعد ہوں گے۔مگر سر دست باہر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طور پر نہیں ہوگا۔بلکہ ان مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہوگا لیکن جو پریذیڈنٹ یا امیریا سیکرٹری ہیں، ان کے لئے لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔کوئی امیر نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا مبر نہ ہو۔کوئی پریذیڈنٹ نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو اور کوئی سیکرٹری نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا نمبر نہ ہو۔اگر اس کی عمر ۱۵ سال سے اوپر اور چالیس سال سے کم ہے تو اس کے لئے خدام الاحمدیہ کا نمبر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لئے انصار اللہ کا نمبر ہونا ضروری ہوگا۔اس طرح سال ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں شامل ہونا لازمی کر دیا جائے گا۔کیونکہ احمدیت صحابہ کے نقش قدم پر ہے۔صحابہ سے جب جہاد کا کام لیا جاتا تھا تو ان کی مرضی کے مطابق نہیں لیا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ جاؤ اور کام کرو۔مرضی کے مطابق کام کرنے کا میں نے جو موقع دینا تھا۔وہ قادیان کی جماعت کو میں دے چکا ہوں اور جنہوں نے ثواب حاصل کرنا تھا انہوں نے ثواب حاصل کر لیا ہے۔اب پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا لازمی ہے اور اس لحاظ سے اب وہ ثواب نہیں رہا جو طوعی طور پر کام کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوسکتا تھا۔بیشک خدمت کا اب بھی ثواب ہو گا لیکن جو طوعی طور پر داخل ہوئے اور وفا کا نمونہ دکھایا وہ سابق بن گئے۔البتہ انصار اللہ کی مجلس چونکہ اس شکل میں پہلے قائم نہیں ہوئی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔اس لئے اس میں جو شامل ہوگا، اسے وہی ثواب ہوگا جو طوعی طور پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہوتا ہے۔میں ایک دفعہ پھر جماعت کے کمزور حصہ کو اس امر کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں کہ دیکھوشتر مرغ کی طرح مت بنو۔جو کچھ بنو اس پر استقلال سے کاربند رہو۔اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے مثیل ہوتو تمہیں اپنے اندر صحابہ کی صفات بھی پیدا کرنی چاہئیں اور صحابہ کے متعلق یہی ثابت ہے کہ ان سے دین کا کام حکماً کیا جاتا تھا۔پس جب صحابہ کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ دینی احکام کے متعلق کسی قسم کی چون و چرا کریں تو تمہیں یہ اختیار کس طرح حاصل ہو سکتا ہے یا تو یہ کہو کہ حضرت مرزا صاحب نبی نہیں تھے اور چونکہ وہ نبی نہیں تھے اس لئے ہم صحابی بھی نہیں اور نہ صحابہ سے ہماری