سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 166

۱۶۶ انسان بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنے پاس کی چیز سے متاثر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاس کی چیزیں ایک دوسرے کے اثر قبول کرتی ہیں۔بلکہ سائنس کی موجودہ تحقیق سے تو یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں وغیرہ کے رنگ ان پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں اس لئے ان کا رنگ پانی کی وجہ سے اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے، جو پانی پر پڑتی ہیں، سفید اور چمکیلا ہو گیا۔مینڈک کناروں پر رہتے ہیں اس لئے ان کا رنگ کناروں کی سبز سبز گھاس کی وجہ سے سبزی مائل ہو گیا۔ریتلے علاقوں میں رہنے والے جانور مٹیالا رنگ کے ہوتے ہیں۔سبز سبز درختوں پر بسیرا رکھنے والے طوطے سبز رنگ کے ہو گئے۔جنگلوں اور سوکھی ہوئی جھاڑیوں میں رہنے والے تیتروں وغیرہ کا رنگ سوکھی ہوئی جھاڑیوں کی طرح ہو گیا۔غرض پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے اور ان کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سے پرندوں کے رنگ بھی اسی قسم کے ہو جاتے ہیں۔پس اگر جانوروں اور پرندوں کے رنگ پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے بدل جاتے ہیں حالانکہ ان میں دماغی قابلیت نہیں ہوتی۔تو انسانوں کے رنگ جن میں دماغی قابلیت بھی ہوتی ہے پاس کے لوگوں کی وجہ سے کیوں نہیں بدل سکتے۔خدا تعالیٰ نے اسی لئے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (سورة التوبہ آیت ۱۱۹) یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا گر یہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تا کہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو جائے جو اس میں پایا جاتا ہے۔پس جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اس روح کو زندہ رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے۔کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں ہی اس کی اپنی اصلاح ہے۔ہر شخص جو اپنے آپ کو اس سے مستغنی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کا محتاج ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخر دم تک اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کرتے رہے۔پس اگر خدا کا وہ نبی جو پہلوں اور پچھلوں کا سردار ہے، جس کی روحانیت کے معیار کے مطابق نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا اور جس نے خدا تعالیٰ کا ایسا قرب حاصل کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے۔اگر وہ بھی مدارج پر مدارج حاصل کرنے کے بعد پھر مزید روحانی ترقی کا محتاج ہے اور روزانہ