سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 165

۱۶۵ کامل تنظیم اور متواتر حرکت عمل کی تلقین مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے پہلے سالانہ اجتماع سے خطاب سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں صرف مجلس انصاراللہ کی خواہش کے مطابق اس جلسہ کے افتتاح کے لئے آیا ہوں اور صرف چند کلمات کہہ کر دعا سے اس جلسہ کا افتتاح کر کے واپس چلا جاؤں گا۔انصار اللہ کی مجلس کے قیام کو کئی سال گذر چکے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب تک اس مجلس میں زندگی کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔زندگی کے آثار پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اول تنظیم کامل ہو جائے دوسرے متواتر حرکت عمل پیدا ہو جائے اور تیسرے اس کے کوئی اچھے نتائج نکلنے شروع ہو جائیں۔میں ان تینوں باتوں میں مجلس انصار اللہ کو ابھی بہت پیچھے پاتا ہوں۔انصار اللہ کی تنظیم ابھی ساری جماعتوں میں نہیں ہوئی۔حرکت عمل ابھی ان میں پیدا ہوتی نظر نہیں آتی، نتیجہ تو عرصہ کے بعد نظر آنے والی چیز ہے۔مگر کسی اعلیٰ درجہ کے نتیجہ کی امید تو ہوتی ہے اور کم از کم اس نتیجہ کے آثار کا ظہور تو شروع ہو جاتا ہے۔مگر یہاں وہ امید اور آثار ابھی نظر نہیں آتے۔غالباً مجلس انصار اللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس اجتماع میں وہ ان کاموں کی بنیاد قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور قادیان کی مجلس انصار اللہ بھی اور بیرونی مجالس بھی اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کریں گی کہ بغیر کامل ہوشیاری اور کامل بیداری کے کبھی قومی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی اور ہمسایہ کی اصلاح میں ہی انسان کی اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ اس کے ہمسایہ کا اثر اس پر پڑتا ہے۔نہ صرف