سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 154
۱۵۴ تفسیر سنائیے۔تو وہ کہنے لگے یہ قرآن تو سارا ابو جہل کے لئے نازل ہوا ہے۔ابوبکر کے لئے نازل ہوتا تو اس کی ب ہی کافی تھی۔کیونکہ ب کے معنے ساتھ کے ہیں اور ابو بکر کے لئے یہ کافی تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھی بن جائیں۔باقی ابو جہل نہیں مانتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سارا قرآن اس کے لئے نازل کیا ہے۔ورنہ ابو بکر کے لئے اتنے بڑے قرآن کی ضرورت نہیں تھی۔تو حقیقت یہی ہے کہ قرآن کے معارف اور حقائق سکھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔آپ نے بتایا کہ قرآن کریم میں کوئی آیت منسوخ نہیں اور تم قرآن کے جتنے حصے پر عمل کرو گے اتنے ہی تم خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاؤ گے اور عملی طور پر دیکھا جائے تو قرآن کریم کسی فلسفہ کی کتاب نہیں بلکہ یہ ایک آسمانی کتاب ہے۔اس کی ایک ایک آیت پر عمل کرو گے تو تم ولی اللہ بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں گی اور جب خدا تعالی کی برکتیں تم پر نازل ہوں گی۔تو تمام آفات اور مصائب تمہیں اپنی نظروں میں بیچ نظر آنے لگ جائیں گے۔گزشتہ تیرہ سوسال کے عرصہ میں جس نے بھی قرآن کریم پر سچے دل سے عمل کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ اس کے شامل حال رہی ہے اور مصائب اور مشکلات کے ہجوم میں وہ اس کی تائیدات کا مشاہدہ کرتا رہا ہے۔ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ان کی بیوی ان کے ایک دوست کے پاس گئی ، جو خود بھی بڑے بزرگ اور عالم تھے، اور کہنے لگی آپ اپنے دوست کو سمجھائیں وہ کوئی کام نہیں کرتے۔اس بزرگ نے کہا بہت اچھا میں ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں سمجھاؤں گا کہ وہ کوئی کام کریں۔چنانچہ وہ وہاں گئے اور کہنے لگے دیکھو بھائی مجھے پتہ لگا ہے کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے حالانکہ آپ عالم ہیں اور دوسرے لوگوں کو پڑھا کر بھی آپ اپنی روزی کما سکتے ہیں۔انہوں نے جواب میں کہا بھائی میرے دل میں آپ کی بڑی قدر ہے لیکن مجھے افسوس ہوا کہ آپ نے ایسا مشورہ کیوں دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم کسی کی مہمان نوازی کو رد نہ کرو اور میں تو خدا تعالیٰ کا مہمان ہوں۔پھر میں خدا تعالیٰ کی مہمان نوازی کو کیوں رد کروں۔اگر میں اس کی مہمان نوازی کو رد کر دوں تو وہ خفا ہو جائے گا۔دوسرے بزرگ بھی ہوشیار تھے۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان نوازی صرف تین دن کی ہوتی ہے اس کے بعد صدقہ ہوتا ہے۔آپ کو خدا تعالیٰ