سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 153
۱۵۳ رہے ہیں۔جو یہ بات کریں گے، وہ ہماری طرف سے ہی سمجھی جائے گی۔غرض مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش کردہ دلائل اور براہین کو سمجھ چکے ہیں اور جوں جوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پھیلتی جائے گی ، عیسائیت مغلوب ہوتی جائے گی۔دوسرا پہلوروحانیت کا ہے۔عیسائیوں کی سیاست کا پہلو تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ سے ختم ہو گیا۔مذہبی پہلو میں یہ نقص تھا کہ علماء نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ ہیں۔اس کی وجہ سے مسلمانوں کا قرآن کریم پر ایمان کامل نہیں رہا تھا۔ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ جس قرآن میں ایک آیت بھی منسوخ ہے، مجھے اس کا کیا اعتبار ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مشکل کو بھی دور کر دیا اور فیصلہ کر دیا کہ قرآن کریم کی ہر آیت قابل عمل ہے۔بسم اللہ کی ب سے لے کر والناس کی س تک کوئی حصہ بھی ایسا نہیں جو قابل عمل نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ جب میں نے تفسیر کبیر لکھی تو لوگ اسے پڑھ کر حیران ہو گئے اور کہنے لگے کہ پہلے علماء نے تو وہ باتیں نہیں لکھیں، جو آپ نے لکھی ہیں۔مجھے کئی غیر احمدیوں کی چٹھیاں آئیں کہ ہم نے تفسیر کبیر کو پڑھا ہے۔اس میں قرآن کریم کے اتنے معارف لکھے گئے ہیں کہ حد نہیں رہی۔ضلع ملتان کے ایک غیر احمدی دوست ایک احمدی دوست سے تفسیر کبیر پڑھنے کے لئے لے گئے اور اسے پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا ہمیں وہ سمندر دیکھنا چاہئے ، جہاں سے یہ تفسیر نکلی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ سمندر کہاں سے آگیا ؟ یہ محض اس نکتہ کی وجہ سے آیا ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت قابل عمل ہے۔مفسرین کو جس آیت کی سمجھ نہ آئی اسے انہوں نے منسوخ قرار دے دیا لیکن ہم چونکہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کی ہر آیت قابلِ عمل ہے، اس لئے ہم ہر آیت پر فکر کرتے ہیں اور غور وفکر کے بعد اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور اور برکت کی وجہ سے اس کو حل کر لیتے ہیں اور اس کی ایسی لطیف تفسیر کرتے ہیں جو ۱۳۰۰ سال میں کسی عالم نے نہیں کی۔گزشتہ علماء نے اگر بعض آیتوں کی تفسیر نہیں لکھی تو اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قرآن کریم میں بعض آیات منسوخ بھی ہیں۔اس لئے جب کوئی مشکل آیت آجاتی وہ اس پر غور نہیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر بعد میں پتہ لگ گیا کہ یہ آیت منسوخ ہے، تو ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں۔اس لئے ہم ہر آیت پر غور کرتے ہیں اور اس کی صحیح تشریح تلاش کرنے میں ہمت نہیں ہارتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا ایمان بالقرآن روز بروز ترقی کرتا جاتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کسی پرانے بزرگ کا ذکر سنایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس بزرگ سے کسی نے درخواست کی کہ قرآن کریم کی