سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 155

۱۵۵ کے مہمان بنے ہیں سال ہو گئے ہیں۔پھر کیا ابھی مہمان نوازی ختم نہیں ہوئی ؟ وہ بھی ہوشیار تھے۔کہنے لگے کیا قرآن کریم نے نہیں فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔گویا قرآن کریم کی رو سے تو میں تین ہزار سال تک خدا تعالیٰ کا مہمان رہونگا اور اس کا دیا کھاؤں گا۔تو حقیقت یہی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے، وہ اس کے لئے روزی کے مختلف رستے کھول دیتا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس نے انسان کے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لئے فرمایا ہے کہ تم میرے حضور دعائیں کیا کرو۔کیونکہ جب کوئی انسان بحجز اور انکسار کے ساتھ دعائیں کرتا ہے تو اس کے دل میں محبت الہی بڑھتی ہے۔بے شک ظاہری کسب بھی ایک ضروری چیز ہے لیکن دعا ئیں بھی روحانیت پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔مومن کسب تو کرتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ در حقیقت مجھے دیتا خدا تعالیٰ ہی ہے۔یہ کبھی نہیں سمجھتا کہ جو کچھ مجھے ملا ہے، وہ میری محنت کے نتیجہ میں ملا ہے لیکن ایک مالدار کا فر یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے میرے ذاتی علم اور ذہانت اور محنت کی وجہ سے ملا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ جب قارون سے کہا گیا یہ دولت تمہیں خدا تعالیٰ نے دی ہے، تو اس نے کہا کہ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِنْدِي (سورة القصص آیت ۷۹) کہ میری یہ دولت مجھے میرے علم کی وجہ سے ملی ہے۔تو اسلام کمائی سے منع نہیں کرتا لیکن وہ کہتا ہے کہ تم خواہ کتنی محنت کرو یہ یقین رکھو کہ اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے۔مثلاً کوئی لوہار ہے تو وہ جتنی چاہے محنت کرے لیکن جو بھی کمائے ، اس کے متعلق یہ خیال نہ کرے کہ وہ اسے لوہارے کی وجہ سے ملا ہے۔بلکہ سمجھے کہ یہ سب کچھ اسے خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔آخر ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک شخص سارا سال لو ہارے کا کام سیکھتا ہے لیکن وہ سیکھ نہیں سکتا۔پھر ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک کاریگر ہوتا ہے لیکن اسے کوئی کام نہیں ملتا۔پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ رو پیدل جائے تو رستہ میں کوئی ڈاکو اس کا سارا روپیہ چھین لے پھر یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ گھر کما کر روپیہ لے آئے لیکن گھر میں آتے ہی پیٹ میں درد اٹھے اور وہ جانبر ہی نہ ہو سکے۔پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اسے ایسی جلدی بیماری پیدا ہو جائے کہ وہ کپڑا نہ پہن سکے۔تو جو کچھ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل۔سے ہوتا ہے۔اگر کوئی انسان اپنی محنت سے بھی روزی کمائے ، تب بھی اسے جو کچھ ملتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتا ہے۔یہ چیز ایسی ہے کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ اسے جو کچھ