سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 152

۱۵۲ خدا نہ رہے اور اس طرح عیسائیت بھی باقی نہ رہی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو ایسے ایسے معرفت کے نکتے دیئے ہیں، جن کا مقابلہ عیسائیت کے بس کی بات نہیں۔۱۳۰۰ سال سے مسلمان اس دھو کہ میں مبتلا چلے آتے تھے کہ مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر ہیں اور اس کی وجہ سے عیسائیت کو مد دل رہی تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کی وفات ثابت کر کے عیسائیت کو ختم کر دیا۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔مسلمانوں تب ادبار آیا کہ جب قرآن کو بھلایا رسول حق کو مٹی میں سلایا مسیحا کو فلک پر ہے بٹھایا۔عیسائی ہمیشہ کہتا تھا کہ میرا مسیح آسمان پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیٹھا ہے اور تمہارا رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) زمین میں دفن ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ہی جھٹکے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر چڑھا دیا اور مسیح ناصری کو زمین میں دفن کر دیا۔یہی چیز تھی جس نے احمدیت کو عیسائیت پر غلبہ دیا ہے۔جس وقت تک یہ تعلیم موجود ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رہے گی ، دنیا میں عیسائیت پنپ نہیں سکتی۔عیسائیت کو یہی فخر تھا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح ناصری علیہ السلام زندہ ہیں اور اس سے ان کے دعوئی کی تائید ہوتی تھی لیکن اب تو انہیں بھی سمجھ آگئی ہے اور وہ اس عقیدہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔میں جب مری گیا تو وہاں عیسائی مشن میں ہمارا مبلغ اور میرا ایک بیٹا عیسائیوں کو تبلیغ کرنے کے لئے جاتے تھے۔جب ہمارے مقابلہ میں ان کا پہلو کمزور ہو گیا۔تو انہوں نے لاہور سے کچھ دیسی مشنری بلائے اور مشنریوں نے آکر چالاکیاں شروع کر دیں اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر بھڑ کا نا شروع کیا کہ مرزا صاحب تو مسیح علیہ السلام سے بڑا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس طرح انہوں نے غیر از جماعت مسلمانوں کو ہمارے خلاف جوش دلانا چاہا۔مگر وہ روزانہ تبلیغ کے بعد سمجھ چکے تھے کہ احمدی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔اس سے اسلام کی فضیلت عیسائیت پر ثابت کی جاسکتی ہے اس لئے جب عیسائیوں نے احمدیت کے خلاف شور مچانا شروع کیا تو انہوں نے کہا تمہیں اس سے کیا واسطہ مرزا صاحب اپنے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل سمجھتے ہیں یا نہیں ، یہ تو ہمارے گھر کا جھگڑا ہے۔تم ان اعتراضات کا جواب دو جو عیسائیت پر ہوتے ہیں اور اپنے عقائد کی حقانیت کو ثابت کرو۔یہ لوگ ہماری طرف سے نمائندے ہیں، جو تمہارے ساتھ بحث کر