سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 151
۱۵۱ دوسرے سب ممالک کو شکست دے رہے ہیں۔یہ جو ٹھینگے کا مزہ ہے، وہ ان کے ٹھڈوں میں نہیں۔تو یہ برکت جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہے۔محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل دی ہے اور جوں جوں ہمارے مبلغ کام کریں گے اور احمدیت ترقی کرے گی۔ہمیں اور زیادہ برکت ملے گی ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تیرے ذریعہ اسلام کو دنیا پر غالب کروں گا۔اب جو شخص بھی اسلام کی تبلیغ کے لئے باہر نکلتا ہے اور جو شخص بھی تبلیغ کے لئے ایک پیسہ بھی دیتا ہے، در حقیقت اپنے دائرہ میں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے اور جو وعدے خدا تعالیٰ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے، وہ اپنے درجہ اور مقام کے لحاظ سے اس کے ساتھ بھی ہوں گے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام تو فوت ہو گئے اور قرآن کریم ایک کتاب ہے جو بولتی نہیں۔اب جو مبلغ ہیں وہی بولیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ایک رنگ میں آپ کے الصلاة نائب ہوں گے۔پس جوں جوں وہ امریکہ، انگلستان اور دوسرے ممالک میں تبلیغ کریں گے اور اسلام بڑھے گا۔خلافت محمد یہ ظلی طور پر خدا تعالیٰ انہیں دیتا چلا جائے گا لیکن ان کی وہاں خلافت قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں مرکز میں بھی خلافت قائم ہو جو تمام احمد یوں کو اکٹھارکھے اور انہیں خرچ بھجوائے تا کہ وہ اپنی اپنی جگہ کام کر سکیں۔پھر جوں جوں چندے بڑھتے جائیں تبلیغ کے نظام کو وسیع کرتے چلے جائیں۔میں نے کل بتایا تھا۔عیسائی خلافت نے ۵۲ لاکھ مبلغ تبلیغ کے لئے تیار کیا ہوا ہے اور اس کے مقابلہ میں ہماری طرف سے صرف سو ڈیڑھ سو مبلغ ہے۔جس دن مسیح محمدی کو ۵۲ لاکھ مبلغ مل گئے ، اس دن بھاگتے ہوئے عیسائیت کو رستہ نہیں ملے گا۔کیونکہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ دلائل اور براہین دئے ہیں، جو عیسائیت کے پاس نہیں۔مثلاً لنڈن میں ایک جلسہ ہوا۔اس میں ہمارے مبلغوں نے تقاریر کیں اور بتایا کہ مسیح ناصری فوت ہو گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسیح ناصری صلیب سے بیچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے وفات پائی ہے اور اب تک ان کی قبر سرینگر میں پائی جاتی ہے۔اس پر ایک پادری کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اگر مسیح فوت ہو گئے ہیں تو ہماری عیسائیت مرگئی۔آگے وہ کشمیر چلے گئے یا کسی اور جگہ، اس کا کوئی سوال نہیں۔یہ تو ایک علمی سوال ہے جو اٹھایا گیا ہے۔ان کا وفات پا جانا ہی عیسائیت کے ختم ہو جانے کے لئے کافی ہے۔کیونکہ ہم حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا مانتے ہیں اور اگر وہ مرگئے ہیں تو