سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 139

۱۳۹ ہے۔اگر چہ وہ ترقی آہستہ آہستہ ہو رہی ہے لیکن بہر حال ہو رہی ہے۔پچھلے سال وہاں سے بیعت کا ایک خط آیا۔مجھے افسوس ہے کہ وہ گھر میں پڑا رہا۔میں تو بیماری کی وجہ سے خطا نہیں پڑھ سکتا۔اس لئے وہ کہیں پڑا رہا۔اب کے وہ خط نکلا تو معلوم ہوا کہ وہ بیعت ایک گورنر کی تھی۔مگر ادھر خط ملا اور ادھر معلوم ہوا کہ وہ بے چارہ قتل بھی ہو گیا ہے۔اب اس کے خط کے ملنے کا یہی فائدہ ہوا کہ وکیل التبشیر نے کہا ہے کہ ہم اس کے بیوی بچوں کو ہمدردی کا خط لکھ دیتے ہیں۔پہلے ہم سمجھتے تھے کہ گورنر کہاں سے آگیا، کوئی ڈپٹی کمشنر ہو گا۔مگر اب وہاں سے جو طالب علم آیا ہوا ہے اس نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے جزیرے ہیں۔ان جزیروں پر گورنر مقرر ہوتا ہے، ڈپٹی کمشنر نہیں ہوتا۔اس نے بتایا کہ بیعت کا خط لکھنے والا گورنر ہی تھا۔مگر وہ تو اب شہید ہو گیا ہے۔اب اس کی جگہ ایک نائب گورنر نے بیعت کر لی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں بھی ترقی ہوئی اگر خدا تعالیٰ چاہے تو امریکہ اور فلپائن وغیرہ علاقوں مین جماعت کو اور بھی ترقی ہو جائے گی اور اس طرح ڈالر کی آسانی ہو جائے گی۔امریکہ میں تبلیغ کا یہ اثر بھی ہے کہ دوسرے کئی ملکوں میں بھی ہماری تبلیغ کا اچھا اثر پڑ رہا ہے۔چنانچہ مولوی نور الحق صاحب انور جو حال ہی میں امریکہ سے آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مصر کا جو وائس قونصل تھا اس کے جبڑے میں درد تھی اس نے آپ کو دعا کے لئے خط لکھا تھا لیکن اس کو آپ کا جواب نہیں پہنچا۔میں نے دفتر والوں سے خط نکالنے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ خطا نہیں ملا۔لیکن اب پرسوں یا اتر سوں اس کا دوسرا خط آیا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ غالباً میرا پہلا خط نہیں پہنچا۔اب میں دوسرا خط لکھ رہا ہوں۔میرے جبڑے میں درد ہے آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ صحت دے۔(انصار اللہ کے جلسہ کے بعد مولوی نور الحق صاحب انور ملے تو انہوں نے بتایا کہ اب اس کے جبڑے کو آرام آچکا ہے۔بلکہ میرے یہاں آنے سے بھی پہلے اسے آرام آچکا تھا۔اس لئے یہ خط پہلے کا لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے ) انور صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ کرنل نا صر کا بچپن کا دوست ہے اور اس پر بہت اثر رکھتا ہے۔یہ امریکہ میں تبلیغ کا ہی اثر ہے۔ہم امریکہ میں تبلیغ کرتے ہیں تو مصری اور شامی بھی متاثر ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہی جماعت ہے جو اسلام کی خدمت کر رہی ہے اور اس طرح قدرتی طور پر انہیں ہماری جماعت کے ساتھ ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے پہلی شامی حکومت کی سختیوں کی وجہ سے ہمارے مبلغ منیر الحصنی صاحب کا خط آیا تھا کہ اس نے ہماری جماعت کے بعض اوقاف میں دخل اندازی کی تھی لیکن اب انہوں نے لکھا ہے کہ جو نئے قوانین بنائے گئے ہیں ان میں کچھ گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ان کے مطابق میں دوبارہ نالش کرنے لگا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام