سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 140
الده ہے کہ يَدْعُونَ لَكَ اَبْدَالُ الشَّامِ ابدال شام تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ شام میں جماعت پھیلے گی۔پس دوستوں کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہاں جماعت کے لئے سہولت پیدا کرے اور وہاں جماعت کو کثرت کے ساتھ پھیلائے تا ابدال شام پیدا ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہیں نہیں ، يَدْعُونَ لَگ کے یہی معنی ہیں کہ وہ جماعت کے لئے دعائیں کریں گے اور ابدال نام بتاتا ہے کہ ان کی دعائیں سنی جائیں گی۔ابدال کے معنی ہیں کہ ان کے اندر بڑی عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ کے مقرب ہو جائیں گے۔پس اس کے لئے بھی دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے کہ شام میں جو مشکلات ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دور کرے۔وہاں مضبوط جماعت پیدا ہو اور ایسے ابدال پیدا ہوں، جو رات دن اسلام اور احمدیت کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔ہمیں پونڈ مہیا کرنے میں شام کا بھی بڑا دخل ہے۔شام میں بھی ڈالر اور پونڈ کا زیادہ رواج ہے اور وہاں سے ہمیں کچھ مددل جاتی ہے۔بہر حال اگر سعودی عرب میں جماعت پھیلے، اسی طرح امریکہ اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور فلپائن میں ہماری جماعت پھیلے، تو ڈالرمل سکتا ہے۔اسی طرح اگر مشرقی اور مغربی افریقہ اور انگلینڈ میں جماعت پھیلے، تو پونڈ جمع ہو جاتا ہے۔یہ پونڈ اور ڈالر ہمیں اپنے لئے نہیں چاہئیں۔خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کے گھر کی تعمیر کے لئے ہمیں ان کی ضرورت ہے۔پس دعائیں کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ ان ممالک میں جماعتیں قائم کرے اور ان سے ایسا اخلاص پیدا کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر سارے ممالک میں بنائیں۔یہاں تک کہ دنیا کے چپہ چپہ سے اللہ اکبر کی آواز آنے لگ جائے اور جو ملک اب تک تثلیث کے پھیلانے کی وجہ سے بد نام تھا، وہ اب اپنے گوشہ گوشہ سے یہ آواز بلند کرے کہ مسیح تو کچھ بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا ہے۔اگر ایسا ہو جائے تو یہ دین اسلام کی بڑی بھاری فتح ہے اور ہمارے لئے بھی یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ہم میں سے ہر شخص تو وہاں تبلیغ کے لئے جانہیں سکتا۔چند مبلغ گئے ہوئے ہیں۔باقی لوگ یہ کر سکتے ہیں کہ ان کی روپیہ سے مدد کریں اور دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا فضل چاہیں تا کہ وہ ان پر اپنے فرشتے اتارے اور ان کی باتوں میں اثر پیدا کرے۔ہمارا ایک طالب علم جرمن گیا ہوا تھا۔اس کا کل ہی ایک خط آیا ہے کہ ایک پادری کی بیٹی میرے زیر تبلیغ تھی جو بہت حد تک احمدیت کی طرف مائل ہوگئی ہے۔لیکن اسے باپ سے ڈر ہے کہ وہ اس کی مخالفت نہ کرے کیونکہ وہ پادری ہے۔میں نے لکھا ہے کہ پادری تو بہت مسلمان ہو چکے ہیں۔اس لڑکی کو سمجھاؤ کہ وہ ہماری کتابیں پڑھے اور اپنے باپ کو بھی سمجھائے۔وہ بھی