سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 138

۱۳۸ تحریک جدید کے نئے سال کے اعلان کا وقت آ گیا ہے۔ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے اور ہم نے تمام غیر ممالک میں مساجد بنانی ہیں۔اس وقت ہمارے ملک کی ایکھینچ کی حالت پوری طرح مضبوط نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ فضل کرتا رہا ہے اور ہمارے کام چلتے رہے ہیں۔کیونکہ ہماری باہر کی بعض جماعتیں اب مضبوط ہوگئی ہیں۔مثلاً افریقہ کی جماعتیں وغیرہ اور وہ پاکستان کے قوانین کے ماتحت نہیں۔اس لئے ان لوگوں نے مساجد کی خاطر جو جماعت کو پونڈ اور ڈالر دیئے ہیں، ان سے کسی حد تک کام چلتا رہا ہے۔مگر وہ جماعتیں ابھی کم ہیں۔وہ زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ان کا بوجھ بٹانے کا طریق یہی ہے کہ یہاں کا بوجھ یہاں کی جماعتیں اٹھالیں اور ان کو اس بوجھ سے فارغ کر دیا جائے۔تا کہ وہ غیر ملکوں میں مسجد میں بنائیں۔امریکہ میں عام طور پر حبشی لوگ مسلمان ہیں اور حبشیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی سمجھ کم ہوتی ہے لیکن امریکہ میں ایک مسجد بنی ہے جس کے لئے ایک حبشی مرد اور اس کی بیوی نے اپنا مکان اور جائیداد وقف کر دی تھی اور پھر انہوں نے کچھ اور روپیہ بھی دیا۔اسی طرح کچھ چندہ دوسرے لوگوں نے بھی دیا۔بہر حال وہ مسجد بن گئی ہے۔اگر امریکہ کے حبشی لوگ جو اسلام سے بہت دور رہے ہیں اور اب قریب عرصہ میں اسلام میں داخل ہوئے ہیں، انہیں اتنی توفیق مل گئی ہے کہ وہ مساجد کے لئے اپنی جائیدادیں وقف کر دیں۔تو کیا وجہ ہے کہ جو پرانے مسلمان چلے آتے ہیں وہ یہ کام نہ کریں۔مغربی افریقہ میں بھی روپیہ بہت ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہمارے کچھ چیفس ایسے ہیں جن کی زمینوں میں ہیروں اور سونے کی کانیں نکل آئی ہیں اور ہزاروں ہزار پونڈ انہیں بطور نفع مل جاتا ہے۔اگر ہمارے مبلغ ان میں تحریک جاری رکھیں اور وہ مساجد بنانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں یا کم سے کم دو دو تین تین مسجد میں مشرقی اور مغربی افریقہ والے بنا دیں تو پاکستان کی پونڈ جمع کرنے کی دقت دور ہو جاتی ہے۔کیونکہ ان ملکوں میں پونڈ کثرت سے پایا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں پونڈ کثرت سے نہیں پایا جاتا۔ہمارے ملک کی جو چیزیں ہیں ان کے بیچنے کے لئے انہیں دوسری قوموں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔مگر بعض غیر ملکوں میں جن میں پونڈ پایا جاتا ہے، ایسی چیزیں ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں مثلاً مغربی افریقہ میں سارا پونڈ ہیروں اورسونے کے ذریعہ سے آتا ہے اور ہیروں اور سونے میں کوئی اور قوم ان کا مقابلہ نہیں کرتی۔اس لئے لازما ان کے پاس بہت سا پونڈ بیچ جاتا ہے اور اس سے ہمیں مددمل سکتی ہے۔پھر ہماری جماعت فلپائن میں بھی پیدا ہوگئی ہے اور ترقی کر رہی