سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 136

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنے اہل وعیال کو ہمیشہ نماز وغیرہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔یہی اصل خدمت آپ لوگوں کی ہے۔آپ خود بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔جب تک جماعت میں یہ روح پیدار ہے اور لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کا تعلق قائم رہے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق کلام الہی ان پر نازل ہوتا رہا ہے۔اسی وقت تک جماعت زندہ رہتی ہے کیونکہ اس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز سُن کر اُسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب یہ چیز مٹ جاتی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو جاتے ہیں، تو اس وقت قو میں بھی مرنے لگ جاتی ہیں۔پس آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الہی کی تلقین کرتے رہنا چاہئے اور اگر کوئی بشارت آپ پر نازل ہو تو ڈرنا نہیں چاہئے ، اسے اخبار میں اشاعت کے لئے بھیج دینا چاہئے۔اصل میں تو یہ انبیاء کا ہی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی رویاء وکشوف کو شائع کریں لیکن انبیاء اور غیر انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ انبیاء میں تحدی پائی جاتی ہے اور غیر انبیاء میں تحدی نہیں پائی جاتی۔غیر انبیاء کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ انکسار کے مقام کو قائم رکھیں اور بے شک خدا تعالیٰ کی تازہ وحی کی جو بارش ان پر نازل ہو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر کریں۔لوگوں کو یہ نہ کہیں کہ تم ہماری بات ضرور مانو۔ہاں نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے کہے کہ تم میری باتیں مانو نہیں تو تمہیں سزا ملے گی لیکن غیر نبی کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایمان کی زیادتی کے لئے خواب بیان کر دیتا ہے لیکن وہ کسی سے یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات ضرور مانو۔وہ سمجھتا ہے کہ جب میں غیر نبی ہوں تو اگر خدا تعالیٰ نے میری بات کسی سے منوانی ہے تو وہ خود اس کے لئے کوئی صورت پیدا کر دے گا۔مجھے اس پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔لیکن نبی اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ وحی پر زور دے۔کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے ایسے رنگ میں کلام کرتا ہے، جس رنگ میں وہ کسی اور سے نہیں کرتا۔اس لئے اگر کوئی شخص میری بات نہیں مانے گا تو اس کو سزا ملے گی اور اسی وجہ سے وہ تحدی کرتا ہے لیکن دوسرا شخص ایسا نہیں کر سکتا۔پس جس شخص کو کوئی رویاء یا کشف ہو، اسے وہ کشف یا رویاء اخبار میں چھپوانے کے لئے بھیج دینا چاہئے۔آگے الفضل والوں کا کام ہے کہ وہ اسے شائع کریں یا نہ کریں۔یہ بھی غلط طریق ہے کہ بعض لوگ مجھے کہہ دیتے ہیں کہ الفضل ہمارا مضمون