سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 137

۱۳۷ شائع نہیں کرتا۔وہ بے شک نہ چھاپے تم چپ کر رہو۔کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں کہ وہ چھپے، لیکن اس میں خود الفضل والوں کا اپنا فائدہ بھی ہے، کیونکہ اس سے جماعت کے اندر ایک بیداری پید ہوتی ہے۔اگر کسی شخص کو کوئی رویاء یا کشف یا الہام ہوتا ہے اور وہ شائع ہو جائے تو دوسروں کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم توجہ کریں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں بھی کوئی رویاء یا کشف یا الہام ہو جائے گا۔اس طرح الفضل سلسلہ کی ایک خدمت کرے گا۔وہ جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوگا لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود گرفت کرے گا۔آپ لوگوں کا صرف اتنا کام ہے کہ آپ اسے اس طرف توجہ دلائیں۔لیکن اگر الفضل نہ چھاپے تو پھر اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور اصرار نہ کریں کہ الفضل ہماری خواب شائع کرے۔ایڈیٹر آزاد ہوتا ہے، اس کی مرضی ہے کہ کوئی چیز شائع کرے یا نہ کرے اگر وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتا، تو خدا تعالیٰ خود اس سے سمجھ لے گا۔آپ اس پر داروغہ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہو۔پھر تم داروغہ کہلانے والے کہاں سے آگئے؟ بہر حال آپ انصار اللہ کے مقام کو قائم رکھنے کی کوشش کریں اور انصار اللہ کے معنے یہی ہیں کہ وہ روپیہ سے بھی دین کی خدمت کریں اور روحانی طور پر بھی دین کی خدمت کریں۔میں نے بتایا ہے کہ روحانی طور پر دین کی خدمت یہی ہے کہ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اگر اس کی طرف سے بارش کا کوئی چھینٹا آپ پر بھی پڑ جائے، تو ان چھینٹوں کو لوگوں تک بھی پہنچا ئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، وحی تو الگ رہی ، خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہر چیز کی قدر کرتے تھے۔ایک دفعہ بارش ہوئی تو آپ باہر نکل آئے اور اپنی زبان باہر نکال لی۔اس پر بارش کا ایک قطرہ پڑا تو آپ نے فرمایا۔یہ خدا کی رحمت کا تازہ نشان ہے۔تو قرآن کریم تو الگ رہا۔آپ نے بارش کے ایک قطرہ کو بھی خدا تعالیٰ کا تازہ نشان قرار دیا۔اب اگر کسی شخص پر خدا تعالیٰ کا اتنا افضل ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی کشف ہو جاتا ہے یا کوئی الہام ہو جاتا ہے۔تو وہ تو یقینی طور پر خدا تعالیٰ کا تازہ نشان ہے۔پھر وہ تحدیث نعمت کیوں نہ کرے۔تحدیث نعمت بھی خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریق ہے۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اب