سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 135
۱۳۵ مالی قربانیوں میں اور روحانی اعتبار سے انصار اللہ ترقی کریں مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے چوتھے سالانہ اجتماع سے خطاب تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کی تقریب ہے۔میں اس موقعہ پر آپ سے دو باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ایک تو میں اس بارہ میں آپ سے خطاب کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے فرائض کی طرف توجہ کریں۔آپ کا نام انصار اللہ سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کا زمانہ جوانی اور امنگ کا زمانہ ہوتا ہے۔اس لئے اس عمر کے افراد کا نام خدام الاحمد یہ رکھا گیا ہے تا کہ وہ خدمت خلق کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور چالیس سال سے اوپر عمر والوں کو نام انصار اللہ رکھا گیا ہے۔اس عمر میں انسان اپنے کاموں میں استحکام پیدا کر لیتا ہے اور اگر وہ کہیں ملازم ہو تو اپنی ملازمت میں ترقی حاصل کر لیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہ سے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے پس آپ کا نام انصار اللہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور دین کا چر چا زیادہ سے زیادہ کریں۔تا کہ آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔