سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 134

۱۳۴ مبلغ بدی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔لیکن آپ انہیں کھانے پینے اور رہائش کے لئے اتنے اخراجات تو دیں جن سے وہ شریفانہ طور پر گزارہ کرسکیں۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ فقیروں کی طرح رہتے ہیں۔ان کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں اور معمولی تنوروں سے روٹی لے کر کھاتے ہیں جس کا دیکھنے والوں پر اچھا اثر نہیں ہوتا۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود ہمیں روم اور سپین میں اخراجات پر کنٹرول کرنا پڑے گا۔لیکن اگر اس سال تحریک جدید کا چندہ بڑھ جائے تو ہو سکتا ہے کہ بعد میں ہم مبلغوں کے اخراجات کو بڑھا دیں۔تا وہ زیادہ عمدگی کے ساتھ کام کر سکیں۔اب میں تقریر کو ختم کرتا ہوں اور دعا کر دیتا ہوں اور دعا کے بعد میں چلا جاؤں گا تا کہ دوسرا پروگرام شروع کیا جاسکے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ دوست اپنے بچوں کا بھی چندہ لکھوایا کریں اور ساتھ ہی انہیں بتا دیا کریں کہ یہ تحریک جدید کا چندہ ہے۔تا کہ انہیں ساری عمر یا در ہے اور وہ اپنی اولادوں کو بھی نصیحت کرتے رہیں۔چاہے وہ چندہ دو آنے ہی کیوں نہ ہو یا ایک آنہ ہی کیوں نہ ہو۔مگر بہر حال انہیں بتا دیا کریں کہ ہم نے تمہاری طرف سے بھی تحریک جدید کا چندہ لکھوا دیا ہے اب تم بھی اس تحریک کے ایک مجاہد ہو۔اس موقع پر ایک دوست کے سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا: پانچ روپیہ چندہ کی شرط تو اس شخص کے لئے ہے جو منفرد ہو۔جس کا کوئی بچہ نہیں وہ اگر پانچ روپے سے کم دے تو ہم نہیں لیں گے۔لیکن اگر اپنے چندہ کے ساتھ بچوں کی طرف سے بھی کچھ چندہ لکھوا دیا جائے تو چاہے وہ کتنا ہی تھوڑا ہو ہم اسے منظور کر لیں گے۔(خطاب فرموده ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۷ء۔بحوالہ الفضل ۷۔نومبر ۱۹۵۷ء ص ۱تا۴)