سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 133
۱۳۳ چین کے نو مسلم بہت زیادہ مخلص ہیں۔وہ خوب سوچ سمجھ کر اسلام قبول کرتے ہیں اور پھر اس پر اپنی جانیں فدا کرتے ہیں۔مجھے بھی اس کا ایک نمونہ لنڈن میں نظر آیا تھا۔سن ۵۴ ء سے قبل کا ایک سپنش نو مسلم ڈاکٹر، لنڈن کے قیام کے دوران مجھے ملا۔وہ اس وقت لنڈن سے سو میل کے فاصلہ پر کسی جگہ پریکٹس کرتا ہے۔اس نے جب سنا کہ میں لنڈن میں آیا ہوں تو وہ مجھے وہاں ملنے کے لئے آیا۔اس نے مجھے بتایا کہ کرم الہی ظفر نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسی نعمت دی۔پھر میں نے وہاں چھوٹے درجہ کی ڈاکٹری پاس کی تھی۔اس نے مجھے تحریک کی کہ میں لنڈن چلا جاؤں اور وہاں اپنی تعلیم مکمل کروں۔چنانچہ میں اس کی تحریک کے مطابق لنڈن آ گیا۔یہاں آکر میں نے اپنی تعلیم کی تکمیل کی اور اس وقت میری پریکٹس بڑی اچھی ہے۔میں لنڈن سے سو میل کے فاصلہ پر کام کرتا ہوں۔اس لئے میں روزانہ لنڈن نہیں آسکتا۔اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ ان لوگوں میں اخلاص پایا جاتا ہے اور وہ قربانی کرنے والے ہیں۔میرا پہلے تو یہ ارادہ تھا کہ کرم الہی ظفر کو روم بھجوا دیا جائے۔اب بچوں کی شہادت کی وجہ سے خیال پیدا ہوا کرم الہی ظفر کو سپین میں ہی رہنے دیں اور روم میں کسی اور مبلغ کو بھجوا دیں۔پہلے چوہدری ظفر اللہ خانصاحب کی یہ تجویز تھی کہ میڈرڈ والے روم کی زبان کو خوب سمجھتے ہیں۔اگر کرم الہی ظفر مرکز پر بوجھ ہوں تو انہیں روم بھیجوا دیا جائے۔یہ وہاں جا کر بھی سپین والوں کو تبلیغ کر سکیں گے۔لیکن اب چونکہ پتہ لگا ہے کہ سپین والے نومسلم بڑے مخلص اور ترقی کرنے والے ہیں۔اس لئے اب یہی ارادہ ہے کہ کرم الہی ظفر کو وہیں رہنے دیں اور روم میں کسی اور مبلغ کو بھجوا دیا جائے۔صرف اخراجات کی تخفیف کر دی جائے۔لیکن ہم پہلے بھی اپنے مبلغوں کو بہت کم خرچ دیتے ہیں۔چنانچہ ملایا سے مجھے ایک غیر احمدی دوست نے ایک دفعہ خط لکھا کہ آپ اپنے مبلغوں کو اتنا خرج تو دیں کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر کھانا کھا سکیں اور اچھا لباس پہن سکیں۔بعد میں وہ مجھے کوئٹہ میں ملا تو اس نے کہا کیا آپ کو میرا خط مل گیا تھا؟ میں نے کہا مل گیا تھا۔پھر اُس نے دریافت کیا آپ نے میرے اس خط پر عمل بھی کیا ؟ میں نے کہا ہم غریب لوگ ہیں، ہم اس پر کیا عمل کریں۔اس نے کہا میں نے ملایا سے خط تو لکھ دیا تھا۔لیکن میں نے نیت کر لی تھی کہ میں واپس جاؤں گا تو ذاتی طور پر بھی آپ سے ملوں گا اور زبانی عرض کروں گا کہ آپ کے