سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 132
١٣٢ اسلام کی اشاعت کے لئے رستے کھول رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھاتی چلی جائے۔تا کہ ہر جگہ اسلام کو کامیابی کے ساتھ پھیلایا جاسکے۔بے شک دنیا ہماری مخالف ہے مگر کامیابی الہی سلسلہ کے لئے ہی مقدر ہوتی ہے۔مخالفانہ تدبیریں سب خاک میں مل جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر دنیا میں غالب آکر رہتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ۔( سورة آل عمران آیت ۵۵) کہ انسانوں نے بھی اسلام کو شکست دینے کی بڑی تدبیریں کیں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی اسلام کی فتح دینے کی تدبیریں کیں۔لیکن وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ۔اللہ تعالیٰ کو بڑی تدبیریں کرنی آتی ہیں اور آخر اللہ تعالیٰ تدبیریں ہی جیتی ہیں۔دیکھ لورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دشمن نے کتنی تدابیر کیں لیکن بالآخر اسلام فاتح ہوا۔مکہ فتح ہو گیا ، سارا عرب فتح ہو گیا اور کفار کی تدابیر کسی کام نہ آئیں۔کیونکہ وہ انسانی تدبیریں تھیں۔بے شک کفار نے مسلمانوں پر بیسیوں حملے کئے۔مدینہ کے دائیں بھی اور اس کے بائیں بھی۔خود مدینہ پر بھی اور ان مسلمانوں پر بھی جو مدینہ کے رستہ میں آباد ہو گئے تھے۔مگر کفار کی ساری کوششیں بیکار ہو گئیں اور آخر حضرت عثمان کے زمانہ میں کسرئی اور قیصر دونوں کی حکومتیں ٹوٹ کر چُور چُور ہو گئیں۔پھر ولید بن عبد المالک کے زمانہ میں اسلامی جرنیل طارق نے سپین کو فتح کیا اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے زیادہ دور کی بات نہیں، بلکہ اس وقت ابھی بعض صحابہ زندہ موجود تھے۔پھر معاویہ بن یزید کے ایک لڑکے عبدالرحمن نے دمشق سے جا کر اندلس میں اموی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اس کے بعد گیارہ سو سال تک مسلمان اندلس پر حکمران رہے۔تو جس خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نشان دکھائے تھے وہ خدا ہمارے زمانے میں بھی موجود ہے۔وہ بڈھا نہیں ہو گیا ، وہ ویسا ہی جوان اور طاقت ور ہے جیسے پہلے تھا۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ایمان ہو۔ہم نے بھی سپین کو نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے معا بعد ہم نے اپنے مبلغ کرم الہی ظفر کو سپین بھجوا دیا تھا۔میرے بچے طاہر اور محمود جو ولائت گئے ہوئے تھے واپس آتے ہوئے سپین بھی گئے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ