سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 131

۱۳۱ ہیں ) ان کو پتہ لگا کہ مجھے اسلام کی طرف رغبت ہے۔تو انہوں نے کہ کہ اگر تو اسلام سیکھنا چاہتا ہے تو ربوہ چلا جا اور تو کہیں نہیں سیکھ سکتا۔پس میں چاہتا ہوں کی آپ میرے لئے کوئی انتظام کریں۔مجھ سے موسیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ خرچ میں دوں گا۔میں نے اسے لکھا ہے کہ خرچ کا سوال نہیں۔ہمیں صرف یہ ضرورت ہے تم اپنی طبیعت کو کم خرچ کرنے کی عادت ڈالو کیونکہ وہی مبلغ کامیاب ہوسکتا ہے جسے کم خرچ کرنے کی عادت ہو۔مسٹر کنزے یہاں سے تعلیم حاصل کر کے گئے ہیں اور اب وہ شکاگو (امریکہ ) میں ہمارے مبلغ ہیں۔ان کو ہم جو گزارہ دیتے تھے تم بھی اگر آؤ تو وہی وظیفہ ہم تمہیں دے دیں گے۔اپنے لڑکوں کو ہم چالیس روپے دیتے ہیں اور دوسروں کو ساٹھ۔اسی طریق کے مطابق اگر تم گزارہ کر سکوتو یہاں آ جاؤ۔تعلیم حاصل کر کے چلے جانا اور اپنے ملک میں تبلیغ کرنا۔ہمیں موسیٰ کے روپیہ کی ضرورت نہیں۔ہم خود تم کو وظیفہ دینے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اگر تم یہ کہو کہ میرا چھ ہزار روپیہ میں گزارہ ہوتا ہے تو اس کی ہمیں توفیق نہیں کیونکہ ہم نے تو باہر سے کئی لوگوں کو بلوا کر انہیں تعلیم دلانی ہے۔اگر ہم پچاس آدمی بھی منگوائیں اور چھ ہزار ماہوار روپیہ ماہوار ہر ایک کا خرچ دیں۔تو تین لاکھ روپیہ بن جاتا ہے اور اس کی ہمیں توفیق نہیں۔ابھی اس کا جواب تو نہیں آیا، لیکن اگر وہ یہاں آگیا اور پھر جرمن سے بھی ایک پادری آرہا ہے، تو یہ دو ہو جائیں گے۔پھر ایک اور نوجوان آسٹریلیا کا ہے۔اسے کچھ عربی بھی آتی ہے۔وہ بچپن میں ٹیونس چلا گیا تھا اور مدت تک وہیں رہا۔کوئی پندرہ ہیں سال وہاں رہ کر آسٹریلیا واپس آیا ہے۔اس نے بھی لکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔اگر وہ بھی آگیا تو تین بن جائیں گے۔پھر ایک شخص فلپائن سے آرہا ہے۔وہاں کی گورنمنٹ اس کے رستہ میں روکیں ڈال رہی ہے۔اس لئے وہ ابھی تک نہیں آسکا لیکن اگر وہ آگیا، تو چار ہو جائیں گے۔نیو یارک سے اطلاع آئی ہے کہ ایک حبشی جو پہلے پادری تھا، وہ بھی آنا چاہتا ہے۔اگر وہ آ گیا تو پانچ ہو جائیں گے۔غرض اس وقت تک ہمارے پاس قریباً دس ممالک کے لوگوں کی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں۔کہ ہم یہاں آنا چاہتے ہیں بلکہ اب تو بھارت بھی غیر ملک ہی ہے۔بھارت سے بھی درخواستیں آتی رہتی ہیں۔تھوڑے دن ہوئے ایک سکھ کی چٹھی آئی تھی کہ میں دین سیکھنا چاہتا ہوں۔اس کا انتظام کر دیں۔غرض اللہ تعالیٰ دنیا میں چاروں طرف