سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 120
۱۲۰ نہیں ہوسکتی۔چوری ادنیٰ لوگوں کے گھروں میں ہوتی ہے اور قرآن کریم کہتا ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُو ا مِنْكُمْ وَعَمَلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (سورة النور آیت ۵۶) کہ مومنوں سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اس طرح خلیفہ بنائے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔گویا خلافت خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اس نے خود دینی ہے۔جو اسے لینا چاہتا ہے چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا ہویا حضرت خلیفہ ایسی اول کا ، وہ یقینا سزا پائے گا۔پس یہ مت سمجھو کہ یہ فتنہ جماعت کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔لیکن پھر بھی تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اس کا مقابلہ کرو اور سلسلہ احمدیہ کو اس سے بچاؤ۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (سورة المائدة آيت (۶۸) وہ آپ کو لوگوں کے حملوں سے بچائے گا اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ سے زیادہ سچا اور کس کا وعدہ ہوسکتا ہے۔مگر کیا صحابہ نے کبھی آپ کی حفاظت کا خیال چھوڑا۔بلکہ صحابہ نے ہر موقع پر آپ کی حفاظت کی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی تو آپ باہر نکلے اور دریافت کیا۔کہ یہ کیسی آواز ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم انصار ہیں۔چونکہ اردگرد دشمن جمع ہے، اس لئے ہم ہتھیار لگا کر آپ کا پہرہ دینے آئے ہیں۔اسی طرح جنگ احزاب میں جب دشمن حملہ کرتا تھا۔تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف جاتا تھا۔آپ کے ساتھ اس وقت صرف سات سو صحابہؓ تھے۔کیونکہ پانچ سو صحابہ کو آپ نے عورتوں کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا تھا اور دشمن کی تعداد اس وقت سولہ ہزار سے زیادہ تھی لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور دشمن ناکام و نا مرا درہا۔میور جیسا دشمن اسلام لکھتا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح اور کفار کے شکست کھانے کی یہ وجہ تھی کہ کفار نے مسلمانوں کی اس محبت کا جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھی ، غلط اندازہ لگایا تھا۔وہ خندق سے گزر کر کر سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا رخ کرتے تھے۔جس کی وجہ سے