سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 101

1+1 تعالیٰ بعض اور لوگوں کو یہ توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ ایک حکومت کی شکل میں سارے ملک کی صفائی کا انتظام کریں۔بہر حال یہ تدریج ضروری ہے اور بغیر جماعتی تنظیم اور اصلاح کو مکمل کرنے کے ہم ساری دنیا کی تنظیم اور اس کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کر سکتے۔ہم اسی وقت باہر کی طرف توجہ کر سکتے ہیں جب ہم اپنے داخلی نظام کو مکمل کر لیں گے۔جب ہم تمام جماعت کے افراد کو ایک نظام میں منسلک کرلیں گے تو اس کے بعد ہم بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف کامل طور پر توجہ کر سکیں گے۔اس اندرونی اصلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ، اطفال الاحمدیہ تین جماعتیں قائم کی ہیں اور یہ تینوں اپنے اس مقصد میں جو ان کے قیام کا اصلی باعث ہے اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں۔جب انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمد یہ اس اصل کو اپنے مدنظر رکھیں جو حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ (سورة البقرة: ۱۴۵) میں بیان کیا گیا ہے۔کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر رات اور دن اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہو جائے جس طرح ایک پاگل اور مجنوں تمام اطراف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر صرف ایک بات کے لئے اپنے تمام اوقات کو صرف کر دیتا ہے۔جب تک رات اور دن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے۔جب تک رات اور دن خدام الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے۔جب تک رات اور دن اطفال الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے تمام اوقات کو صرف نہیں کر دیتے اس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر سکتے اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے ، اس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کر سکتے۔اقتباس از خطبه جمعه فرموده ۲۹۔ستمبر ۱۹۴۴ء بحوالہ الفضل ۱۱۔اکتوبر ۱۹۴۴ء - صفحه ۴ اور ۵)