سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 100
100 چیزیں نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہمیں ان چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔اس نے یہ بھی لکھا کہ مجھے اس کی باتیں سن کر احمدیت کے متعلق رغبت پیدا ہو گئی ہے۔وہ بھی ایک چھوٹا بچہ ہے مگر معلوم ہوتا ہے ہمارے عزیز کی طرح وہ بھی ذہین ہے اور بات کو بہت جلدی سمجھ جاتا ہے۔پس ایک چھوٹی عمر کے بچے کا دوسرے سے یہ کہنا کہ ہم میوزیکل کانسرٹ میں شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمیں ان چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور پھر دوسرے لڑکے کا میری طرف خط لکھنا کہ اسے ایک دفعہ اجازت دیجئے کہ وہ میوزیکل کانسرٹ دیکھ لے، بتا تا ہے کہ بچوں میں یہ قابلیت پائی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سنبھال سکیں اور نو جوانوں میں بھی یہ قابلیت پائی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سنبھال سکیں اور بوڑھوں میں بھی قابلیت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے تجربہ اور اپنے علم اور اپنی عقل سے دوسروں کی راہنمائی کر سکیں۔مگر یہ فرض اپنی پوری خوش اسلوبی سے اس وقت تک ادا نہیں ہو سکتا جب تک ہماری جماعت کے تمام نو جوان ، تمام بوڑھے اور تمام بچے اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے۔ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکانا ہے۔تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے۔مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جا سکتا جب تک ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں، اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن اور رات عمل نہیں کرتے جوان کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔دنیا میں ہمیشہ یہی طریق ہوتا ہے کہ پہلے اندرونی کمروں کی صفائی کی جاتی ہے، پھر بیرونی کمروں کی صفائی کی جاتی ہے، پھر صحن کی صفائی کی جاتی ہے، پھر ڈیوڑھی کی صفائی کی جاتی ہے اور پھر گلی کی صفائی کی جاتی ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی شخص ڈیوڑھی یا باہر کی گلی کو تو صاف کرنے لگ جائے اور اس کے اندرونی کمروں میں گند بھرا ہوا ہو۔ہمیشہ بیرونی صفائی سے پہلے اندرونی صفائی کی جاتی ہے۔باہر کی سڑکوں اور گلیوں اور محن وغیرہ کو صاف کرنے سے پہلے اندرونی کمروں کی غلاظت اور گند کو دور کیا جاتا ہے۔اس کے بعد بیرونی کمروں کی صفائی کا وقت آتا ہے۔پھر صحن کی صفائی کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔پھر گلی کی صفائی کا اہتمام کیا جاتا ہے اور جب ان تمام مراحل کو طے کر لیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو تو فیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ میونسپل کمیٹی کی شکل میں سارے شہر کی صفائی کا اہتمام کریں۔پھر اس سے ترقی کر کے اللہ