سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 96

۹۶ ذیلی تنظیموں کے قائم کرنے کی حکمت دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ (اقتباس از خطبه جمعه ) ایک قسم کی چیزیں ایک دوسرے کی طرف زیادہ جھکتی ہیں۔نوجوان قدرتی طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ بوڑھوں کا کیا ہے وہ اپنی عمریں گزار چکے ہیں اور ہم وہ ہیں جو ابھی جوانی کی عمر میں سے گذررہے ہیں۔اس وجہ سے اگر کوئی بوڑھا انہیں نصیحت کرے کہ اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ، اپنے اشغال اور افعال میں نیکی اور تقویٰ مدنظر رکھنا چاہئے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو اخلاق اور مذہب کے خلاف ہو تو وہ اس کی بات کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور خیال کرتے ہیں بوڑھوں کا کیا ہے یہ اپنے وقت میں تو مزے اٹھا چکے ہیں اور اب ہمیں نصیحت کرنے لگ گئے ہیں کہ ہم ہر قسم کے کاموں سے اجتناب کریں۔لیکن اگر ویسی ہی نصیحت انہیں کوئی نوجوان کرے تو وہ اس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم اپنی عمر عیش و عشرت میں گزار کر اب ہمیں نصیحت کرنے لگ گئے ہو بلکہ وہ مجبور ہوتے ہیں کہ اس کی نصیحت پر کان دھر میں اور اس کی بات کو تسلیم کریں۔کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نصیحت کرنے والا بالکل ہمارے جیسا ہے یہ بھی اسی عمر کا ہے جو ہماری عمر ہے۔اس کا بھی ویسا ہی دل ہے جیسا ہمارا دل ہے۔اس کے اندر بھی ویسے ہی جذبات اور احساسات ہیں، جیسے جذبات اور احساسات ہمارے اندر ہیں۔لیکن جب یہ بھی ہمیں نصیحت کر رہا ہے تو ہمیں ضرور اس کی بات پر غور کرنا چاہئے اور اگر کچھ نو جو ان ایسے بھی ہوں جو اس کی نصیحت پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو کم سے کم وہ اعتراض کا کوئی اور طریق اختیار کریں گے، یہ نہیں کہیں گے کہ خود جوانی کی عمر میں مزے اٹھا کر اب ہمیں روکا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم نیکی کی طرف توجہ کریں۔اسی طرح بچے بچوں کے ذریعہ بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور