سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 97

۹۷ بوڑھے بوڑھوں کے ذریعہ باتیں سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں۔اگر کسی بوڑھے کے پاس کوئی نوجوان جا کر کہے کہ جناب فلاں بات اس طرح ہے اور آپ اس طرح کر رہے ہیں۔تو وہ فوراً اس کی بات سنتے ہی کہہ دیگا کہ میاں کوئی عقل کی بات کرو تم ابھی کل کے بچے ہو اور میں بوڑھا تجربہ کار ہوں۔تم ان باتوں کی حقیقت کو کیا سمجھو، ہمیں خوب جانتا ہوں کہ بات کس طرح ہے اور نیکی اور تقویٰ کا کونسا پہلو ہے۔اسی طرح اگر کوئی بچہ بوڑھے کونصیحت کرے تو وہ نصیحت کی بات اس بچہ کے مونہہ سے سن کر ہنس پڑے گا اور کہے گا یہ پاگل ہوگیا ہے ابھی تو خود نا تجربہ کار ہے، بچپن کے زمانہ میں ہے اور نصیحت مجھے کر رہا ہے۔لیکن اگر بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے تو وہ ضرور اس نصیحت پر کان دھر یگا۔کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم تجربہ میں مجھ سے کم ہو۔میں تمہاری بات کس طرح مان سکتا ہوں۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم عمر ہی اپنے ہم عمروں کو اچھی طرح سمجھا سکتے ہیں۔بلکہ میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے اگر عمر میں پانچ دس سال کا فرق ہو تب بھی دوسرا شخص سمجھتا ہو کہ میں تو اوروں کو نصیحت کرنے کا حق رکھتا ہوں مگر کوئی دوسرا شخص جو عمر میں مجھ سے کم ہے، چاہیئے چند سال ہی کم ہو، یہ حق نہیں رکھتا کہ مجھے نصیحت کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں صدر انجمن احمدیہ کے اجلاس میں جب مختلف معاملات پر بحث ہوتی تو بسا اوقات خواجہ کمال الدین صاحب ، مولوی محمدعلی صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب ایک طرف ہوتے اور بعض دوسرے دوست دوسری طرف۔ان میں سے شیخ رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد احسن صاحب امروہی سے عمر میں صرف چار پانچ سال چھوٹے تھے۔مگر میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ جب آپس میں کسی بات پر بحث شروع ہو جاتی تو مولوی محمد احسن صاحب امروہی، شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کر کے کہتے کہ تم تو ابھی کل کے بچے ہو تمہیں کیا پتہ کہ معاملات کو کس طرح طے کیا جاتا ہے۔میرا تجربہ تم سے زیادہ ہے اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہی درست ہے۔حالانکہ مولوی محمد احسن صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کی عمر میں صرف چار پانچ سال کا فرق تھا۔مگر چار پانچ سال کے تفاوت سے ہی انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ دوسروں پر حکومت کروں۔مجھے حق حاصل ہے کہ میں دوسروں کو نصیحت کا سبق دوں اور ان کا فرض ہے کہ وہ میری اطاعت کریں اور جو کچھ میں کہوں