سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 81
ΔΙ عوام کے قائم مقام ہیں، نظام کو بیدار کرتے رہیں۔تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گر جائے اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔جب بھی ایک غافل ہوگا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہوگا۔جب بھی ایک سست ہوگا دوسرا اسے ہوشیار کرنے کے لئے آگے نکل آئے گا۔کیونکہ وہ دونوں ایک ایک حصہ کے نمائندے ہیں۔ایک نمائندہ ہیں نظام کے اور دوسرے نمائندہ ہیں عوام کے۔بعض دفعہ اگر نظام کے نمائندے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں غفلت اور کوتا ہی سے کام لیں گے تو عوام کے نمائندے ان کو بیدار کر دیں گے اور جب عوام کے نمائندے غافل ہوں گے۔تو نظام کے نمائندے ان کی بیداری کو سامان پیدا کریں گے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت تک پورے طور پر اس حقیقت کو سمجھا نہیں گیا اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ میں وہ بیداری پیدا نہیں ہوئی، جس بیداری کو پیدا کرنے کے لئے ان دونوں جماعتوں کو معرض وجود میں لایا گیا تھا۔خدام الاحمدیہ میں کسی قدر زیادہ بیداری ہے۔مگر انصار اللہ میں بیداری کے آثار بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں۔گذشتہ ایام میں مجھے ان کی بعض رپورٹوں سے یہ محسوس ہوا تھا کہ ان میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔مگر یہ کہ انہوں نے واقعہ میں کوئی ایسا کام بھی کیا ہے یا نہیں، جس کی بناء پر انہیں بیدار سمجھا جاسکے، اس کا ابھی تک مجھے کوئی ثبوت نہیں ملا۔حالانکہ کام کرنے والی جماعت تو جس جگہ موجود ہو، وہاں اس کا وجود خود بخود نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ کسی کو بتائے یا نہ بتائے ہر شخص کو محسوس ہونے لگ جاتا ہے کہ یہاں کوئی زندہ اور کام کر نیوالی جماعت موجود ہے اور در حقیقت کام کرنے والی جماعت کی علامت بھی یہی ہے کہ بغیر لوگوں کو بتانے اور ان کا علم دینے کے وہ خود بخود معلوم کر لیں کہ یہاں کوئی کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک پھڑ گھر میں آجائے تو کس طرح گھر کے ہر فرد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ گھر کے اندر کوئی بھڑ آ گئی ہے۔وہ کبھی ایک کی طرف ڈسنے کے لئے جاتی ہے اور کبھی دوسرے کی طرف ڈسنے کے لئے بڑھتی ہے اور گھر بھر میں شور مچ جاتا ہے کہ اس بھڑ کو مارو، یہ کسی کو کاٹ نہ لے۔ایک شہد کی مکھی گھر میں آجائے تو چاروں طرف اس سے بچنے کے لئے پگڑیاں اور ہاتھ اور پنکھے اور رومال وغیرہ ہلنے لگ جاتے ہیں۔ایک پھول