سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 80
۸۰ اس کی غفلت کو دور کرنے میں حصہ لینے لگ جاتا ہے۔جب تک کسی قوم میں یہ دونوں حصے متوازی اور ایک دوسرے کے بالمقابل نہ ہوں۔اس وقت تک وہ قوم کبھی لمبی زندگی حاصل نہیں کر سکتی۔زندگی تو اسے ملتی ہے مگر دو متوازی اور متقابل حصوں کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت جلد مرجاتی ہے مثلاً جس قوم میں سارا انحصار حاکموں پر ہو ، اس قوم کے افراد بھی بہت جلد مرجاتے ہیں۔کیونکہ کبھی حکام بھی مست ہو جاتے ہیں اور جس قوم میں سارا انحصار عوام پر ہوتا ہے اس قوم کے افراد بھی بہت جلد مرجاتے ہیں۔کیونکہ کبھی عوام بھی غافل، سُست اور لاپر واہ ہو جاتے ہیں اور ان کو بیدار کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نیند مبدل بہ موت ہو جاتی ہے لیکن جب کوئی قوم یا جماعت یہ بجھتی ہو کہ ایسے حکام مقرر ہونے چاہئیں جو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھنے والے ہوں اور دوسری طرف افراد یہ مجھتے ہوں کہ ان پر قومی لحاظ سے کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہیں اور یہ کہ بعض افراد کو اگر حکومت کا کام سپرد کیا گیا ہے تو اس لئے نہیں کہ حکومت ان کا حق ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ حکومت کے دوسروں کی نسبت زیادہ اہل ہیں۔پس ان کی حکومت اپنے اندر نیابتی رنگ رکھتی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اگر کسی وقت وہ غافل ہو جائیں تو ہم ان کو بیدار کریں۔کیونکہ حکومت ہماری ہے۔تو ایسی صورت میں وہ قوم زندہ رہتی ہے اور موت کا دن اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتا چلا جاتا ہے۔عوام سُست ہوں تو حکام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں اور حکام سُست ہوں تو عوام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔اس نکتہ کو مدنظر رکھ کر میں نے جماعت میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دو الگ الگ جماعتیں قائم کیں۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں، ایسا ہوسکتا ہے کہ کبھی حکومت کے افراد سُست ہو جائیں اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی عوام سست ہو جائیں۔عوام کی غفلت اور ان کی نیند کو دور کرنے کے لئے جماعت میں ناظر وغیرہ موجود تھے۔مگر چونکہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ کبھی ناظر سُست ہو جائیں اور وہ اپنے فرائض کو کما حقہ ادا نہ کریں۔اس لئے ان کی بیداری کے لئے بھی کوئی نہ کوئی جماعتی نظام ہونا چاہئے تھا جو ان کی غفلت کو دور کرتا اور اس غفلت کا بدل جماعت کو مہیا کرنے والا ہوتا۔چنانچہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ اسی نظام کی دوکڑیاں ہیں اور ان کو اسی لئے قائم کیا گیا ہے تا کہ وہ نظام کو بیدار رکھنے کا باعث ہوں۔میں سمجھتا ہوں اگر عوام اور حکام دونوں اپنے اپنے فرائض کو سمجھیں تو جماعتی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک نہایت ہی مفید اور خوش کن لائحہ عمل ہوگا۔اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام ہیں عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ جو