سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 36

۳۶ ہوں یا اور کوئی سامان اس نے اٹھایا ہوا ہوتو وہ کہ سکتا ہے کہ میں اس وقت نہیں لے سکتا۔یا ممکن ہے وہ ٹریکٹ اس نے پڑھا ہوا ہو، تو اس صورت میں بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے اس ٹریکٹ کی ضرورت نہیں اس طرح اگر اسے پڑھنے کی فرصت ہی نہیں۔تو اس عذر کی بناء پر بھی وہ کوئی ٹریکٹ لینے سے انکار کر سکتا ہے۔لیکن اگر دینے والا دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دوسرا شخص غلطی پر ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کروں تو اگر دیانتداری کے ساتھ اس کی نیت اسی حد تک ہے اور وہ دوسرے کی خیر خواہی واصلاح کے جذبہ کے ماتحت اپنا کوئی ٹریکٹ دوسرے کو پڑھنے کے لئے دیتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے تقسیم کرنے یا اپنی جماعت کے دوستوں کو ان کے لینے اور پڑھنے سے منع کریں۔جس چیز کو اسلام نا جائز قرار دیتا ہے اور جسے ہم نا پسند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اشتہار بازی یا ٹریکٹوں کی تقسیم وغیرہ سے کوئی فتنہ اٹھایا جائے اور یا پھر ہم اس امر کونا پسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص رات کو اٹھ کر کسی کے خلاف کارٹون لگا دے۔اگر اس میں جرات اور دلیری ہے تو یہ کیوں اپنی پنچائت، اپنی مجلس، اپنی جماعت اور اپنی قوم کے بزرگوں کے سامنے اس معاملہ کو نہیں رکھتا اور انہیں کیوں نہیں کہتا کہ فلاں خرابی کو دور کرنا چاہیے۔اس کے معانی تو یہ ہیں کہ اس نے ایک بے دلیل بات بیان کر دی۔مگر جو جواب دینے والا ہے وہ حیران ہے کہ وسوسہ ڈال کر وہ بھاگ کہاں گیا۔تو یہ چیزیں ہیں جنہیں ہم نا پسند کرتے ہیں۔لیکن علی الاعلان کسی کو اشتہار یا ٹریکٹ دینا ہرگز کوئی نا پسندیدہ طریق نہیں بشرطیکہ اس میں گالیاں نہ ہوں اور بشر طیکہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو۔اگر اس طریق کو روک دیا جائے تو مذہب دنیا میں کبھی پھیل ہی نہیں سکتا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو مخالف تھے انہیں آپ کی باتیں سننانا گوار ہی گزرتا تھا۔مگر کیا اس وجہ سے انہیں حق تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں کے پھیلانے سے روک دیتے۔یا اس زمانہ میں تو پریس نہیں تھا مگر کیا موجود زمانہ میں غیر احمد یوں کو حق حاصل تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہتے کہ آپ ہم میں اپنے اشتہار یا ٹریکٹ کیوں تقسیم کرتے ہیں۔پس اس قسم کی باتوں کو روکنا حماقت کی بات ہے۔ہر قوم کا حق ہے کہ وہ اپنے خیالات کو احسن طریق پر دنیا میں پھیلائے اور چاہے تو اشتہار تقسیم کرے اور چاہے تو ٹریکٹ دے۔یہ لینے والے کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو لے اور چاہے تو نہ لے۔مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کو اپنے لٹریچر کی تقسیم سے روک دے۔یہ تو اشاعت لٹریچر کے متعلق میں نے ایک اصول بیان کیا ہے لیکن میں اسی حد تک اپنی بات کو محدود نہیں رکھتا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ میرے نزدیک کسی قوم کو بھورے میں بٹھا دینا اس سے انتہا درجہ کی دشمنی اور اس کی ترقی کی جڑ پر اپنے ہاتھوں سے تبر رکھنا ہے۔جو