سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 10
12 11 بار رات کا وقت تھا۔میں بھوک سے نڈھال ہورہا تھا۔مجھے اپنے پاؤں کے نیچے کوئی نرم چیز معلوم ہوئی شاید کھجور کا ٹکڑا تھایا کچھ اور۔اس وقت میری بھوک کا یہ حال تھا کہ میں نے اسے اٹھا کر فورا نگل لیا اور مجھے آج تک صحیح پتہ نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ایک اور موقع پر مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی مجھے زمین پر پڑا ہوا سوکھا چھڑا ملا میں نے اسے پانی میں نرم اور صاف کیا اور پھر بھون کر کھا گیا اور تین دن اس خوراک سے گزارے۔تکلیف کے یہ دن ہم نے اپنے آقا حضرت محمد علیہ کے ساتھ نہایت صبر کے ساتھ گزارے۔ان دنوں میں ہم سب کو دعاؤں کی خوب تو فیق ملی۔جب بھی موقع ملتا ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ گھائی سے باہر نکل کر تبلیغ کرتے خاص طور پر ان ایام میں جب عرب رواج کے مطابق حج کے مہینوں میں ملک میں امن ہوتا تھا اور کوئی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا۔آخر کار قریش کا ضمیر اس ظلم کے خلاف بغاوت کرنے لگا اور یہ معاہدہ توڑ دیا گیا اور ہمیں آزادی نصیب ہوئی۔ہجرت مدینہ الله شعب ابی طالب سے رہائی کے بعد حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ کی زوجہ اول حضرت خدیجہ اور آپ ﷺ کے چا حضرت ابوطالب (جو آپ ﷺ کے لئے بمنزلہ باپ کے تھے ) وفات پاگئے۔اس کے نتیجے میں آپ ﷺ کے خاندان نے بھی آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیا اور قریش کے سردار زیادہ دلیر ہو گئے۔یہ دور محمد رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے کےصحابہ کے لئے بڑے دکھوں کا دور تھا۔مکہ میں کوئی شخص ہماری بات سننے کیلئے تیار نہیں تھا۔حضور ﷺ حج کے موقع پر عرفات میں جا جا کر اور تجارتی میلوں میں عکاظ مجنہ اور ذوالمجاز کے مقامات پر جا جا کر مختلف قبائل کو تبلیغ کرتے۔ہم بھی حضور علی کے ساتھ ہوتے ادھر ابو جہل اور دوسرے دشمن جن میں حضور کا چا ابولہب بھی ہوتا پیچھا کرتے اور دکھ دیتے۔سنہ 10 نبوی میں آنحضرت ﷺ کو ایک رویا میں ایک جگہ دکھائی گئی جو کھجوروں اور کنوؤں والی تھی۔آنحضرت ﷺ نے اس سے مراد طائف کی اورا کیلے طائف کے سفر پر روانہ ہو گئے۔طائف پہنچ کر طائف کے رؤساء کو تبلیغ فرمائی۔لیکن جس ظلم کی ابتداء وادی مکہ میں ہوئی تھی اس کی انتہاء وادی طائف میں ہوگئی۔آنحضرت ا لہو لہان حالت میں مکہ کے ایک رئیس کی پناہ لے کر صلى الله واپس شہر میں داخل ہوئے۔اس کے بعد تو یہ حالت تھی کہ محمد رسول اللہ علی