سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 11
14 13 اور ہم سب کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا مکہ والوں پر اتمام حجت ہو چکی تھی۔اب ان میں سے کسی اور کے ایمان لانے کی امید نہ تھی۔صلى الله حج کے موقعہ پر آنحضرت علی چند صحابہ کے ہمراہ راتوں کو باہر نکلتے اور ادھر ادھر سے آئے ہوئے قبائل کو تبلیغ فرماتے۔سنہ 11 نبوی میں میثرب کے کچھ نوجوان جو قبیلہ خزرج کے تھے حج کے موقع پر ملکہ آئے۔آنحضرت علی نے رات کے وقت انہیں تبلیغ کی اور وہ ایمان لے آئے دراصل انہوں نے اپنے دشمن یہود قبائل سے سن رکھا تھا کہ ایک عظیم الشان نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔اور وہ بیٹرب ہجرت کر کے آئے گا اور دشمنوں پر غلبہ پائے گا۔چنانچہ جب انہوں نے ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کی اور کہا کہ یہ تو وہی نبی لگتا ہے جس کے بارے میں یہودی بتاتے ہیں۔اس سے پہلے کہ یہود ایمان لے آئیں ہم ایمان لے آتے ہیں۔تا کہ اس کے ساتھ مل کر یہود پر غلبہ حاصل کریں انہوں نے آنحضرت ﷺ کو یقین دلایا کہ وہ واپس بیشترب جا کر اپنے عزیزوں کو بھی آپ ﷺ کا بتا ئیں گے۔چنانچہ سن ۱۲ نبوی میں حج کے موقع پر 11 لوگوں نے اور سنہ ۱۳ نبوی میں حج ہی کے موقع پر مزید 73 لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی بیعت کی اور ہمیں میثرب چلے آنے کی دعوت دی اور محمد رسول اللہ یہ کی حفاظت کا ذمہ لیا۔اسے آنحضرت ﷺ نے منظور فرمالیا۔حضور علہ نے ہمیں ایک ایک دو دو کر کے مکہ سے میٹرب ہجرت کرنے کی ہدایت دی۔چنانچہ وہ چند لوگ جو شروع میں ہجرت کر کے یثرب چلے گئے میں بھی ان میں شامل تھا۔اس طرح اسلام قبول کرنے کے نتیجہ میں ہمیں اپنے وطن سے بھی نکلنا پڑا۔کچھ عرصے کے بعد حضرت رسول کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر بھی ہجرت کر کے میرب آگئے آپ ﷺ کی آمد پر یشرب مدینۃ الرسول‘ اور بعد میں صرف مدینہ مشہور ہو گیا۔آپ ﷺ کے مدینہ پہنچنے کے بعد عرب قبائل میں سے اکثر لوگ ایمان لے آئے۔جب میں نے ہجرت کی اس وقت میرا چھوٹا بھائی عمیر بن ابی وقاص بھی میرے ساتھ تھا۔وہ بھی مسلمان ہو چکا تھا ہم دونوں مدینہ سے باہر قبا میں بنو عمرو بن عوف کے محلہ میں اپنے بڑے بھائی عقبہ بن ابی وقاص کے پاس ٹھہرے۔ہمارے بڑے بھائی عتبہ کے ہاتھوں مکہ میں ایک شخص قتل ہو گیا تھا اس لئے ہمارا بھائی قصاص کے خوف سے بھاگ کر مدینہ چلا گیا تھا اور مدینہ میں ہی رہائش اختیار کر چکا تھا۔اکثر صحابہ جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ آئے وہ بھی شروع میں قبا میں ہی ٹھہرتے تھے۔حتی کہ خود حضرت رسول اللہ علیہ بھی دس دن قبا میں ٹھہرے اور پھر اندرون شہر مدینہ تشریف لے گئے۔قبا کی بستی مدینہ سے قبلہ کی طرف دو میل کے فاصلے پر ہے۔صلى الله