سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 9
10 9 رہ کر گزارا۔ہم سب آنحضرت ﷺ کے ساتھ مل کر راتوں کو عبادت کرتے اور کثرت سے دعائیں کرتے۔چنانچہ ایک سورۃ میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے۔إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ اَدْنى مِنْ ثُلُثَيِ الَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ط (المزمل: 21) اے محمد م تیرا رب جانتا ہے کہ تو دو تہائی رات سے کچھ کم نماز کے لئے کھڑا رہتا ہے کبھی نصف کے برابر اور کبھی ایک تہائی کے برابر اور اسی طرح تیرے ساتھی بھی۔“ الله یہاں رسول اکرم ﷺ کے ساتھیوں سے مراد ہم لوگ ہیں جو مخالفت کی شدت میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے۔قید و بند کے مصائب جوں جوں اسلام ترقی کر رہا تھا دشمن ظلموں میں اضافہ کرتا چلا جاتا تھا۔سنہ 6 نبوی میں مکہ کے دورؤساء حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر بن خطاب ایمان لے آئے جس سے قریش کا غیض و غضب اور بڑھ گیا اور انہوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔قریش میں قبائلی نظام رائج تھا۔ان کے کچھ اصول تھے۔ہر قبیلہ اپنے ہر فرد کی جان کا ذمہ دار ہوتا تھا۔اس لئے حضرت محمد ﷺ کے خاندان کے لوگ بنو ہاشم اور بنو مطلب حضرت محمد علی کو لے کر شعب ابی طالب میں پناہ گزین ہو گئے۔ہم سب صحابہؓ بھی حضور اللہ کے ساتھ تھے۔یہ دیکھ کر قریش مکہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیئے۔محرم سنہ 7 نبوی میں با قاعدہ ایک معاہدہ لکھا گیا کہ کوئی شخص بنو ہاشم اور بنو مطلب سے رشتہ نہیں کرے گا۔نہ ان کے پاس کوئی چیز فروخت کرے گا اور نہ ان سے خریدے گا اور نہ ان کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز جانے دے گا اور نہ ان سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا۔جب تک وہ حضور ﷺ کی حفاظت سے دستبردار نہ ہو جائیں۔اس معاہدے پر رؤساء قریش نے دستخط کئے اور کعبہ کی دیوار سے لٹکا دیا۔شعب ابی طالب میں ہمیں اڑھائی تین سال تک رہنا پڑا جلد ہی کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا اور نوبت فاقوں تک جا پہنچی بھوک کی شدت سے ہم نے جنگلوں کے پتے وغیرہ کھا کر گزارہ کیا۔یہ انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک الله