سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 8 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 8

80 7 : بھی چھوڑ دیں گی اور بھوکی پیاسی رہ کر مر جائیں گی۔ان کا خیال تھا کہ اس ترکیب سے وہ مجھے خدا تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے الگ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔میں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔تین دن تک انہوں نے نہ کچھ کھایا نہ پیا اور نہ مجھ سے کلام کیا ان کی حالت خراب ہو گئی اور وہ مرنے کے قریب ہو گئیں۔میں نے رسول اللہ علیہ سے پوچھا کہ اب کیا کروں؟ آپ ﷺ پر سورۃ لقمان کی وہ آیات اتریں جن میں ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور جہاں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ماں باپ شرک کرنے پر مجبور کریں تو ان کی بات نہ ماننا البتہ ان سے نیک سلوک کرتے رہنا۔میں نے ارادہ کر لیا کہ میں اللہ کے حکم کے برخلاف والدہ کی بات نہیں مانوں گا۔میں والدہ کے پاس گیا وہ سمجھیں کہ ان کی محبت میرے ایمان پر غالب آ گئی ہے۔انہوں نے پوچھا کیا تم نے اپنی ماں کو موت سے بچانے کے لئے اسلام چھوڑ دیا ہے؟ میں نے کہا ماں ! تم مجھے بے حد عزیز ہولیکن اگر تمہارے اندر ہزار جانیں بھی ہوں اور ایک ایک کر کے ہر جان نکل جائے تو خدا کی قسم! میں پھر بھی اسلام نہیں چھوڑوں گا۔“ چھوٹی عمر کی وجہ سے مجھے اس وقت خاندان میں کوئی خاص مقام حاصل نہ تھا۔اس لئے کوئی بھی میری بات ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔اپنی ماں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے اور اسلام پر قائم رہنے کی وجہ سے مجھے بہت دُکھ دیئے گئے۔عفو کا حکم صلى الله باقی مسلمانوں کی طرح میرا بھی ہنسی مذاق اڑایا جاتا ، گالیاں دی جاتیں، لعن طعن کی جاتی اور عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔لیکن خدا تعالیٰ اور رسول ہے کی محبت کے نتیجے میں میرے قدم کبھی نہ ڈگمگائے تاہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک بار ہم حاضر ہوئے۔عبد الرحمن بن عوف جو دور سے میرے رشتہ دار تھے۔انہوں نے ہماری طرف سے حضرت اقدس محمد اللہ سے عرض کیا۔یا رسول اللہ ﷺ! جب ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے اور کوئی شخص ہماری طرف آنکھ تک نہیں اٹھا سکتا تھا۔لیکن مسلمان ہو کر ہم کمزور اور ناتواں ہوگئے ہیں اور ہمیں ذلیل ہو کر رہنا پڑتا ہے۔پس آب عام ہمیں ظالموں کے مقابلہ کی اجازت دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا:۔إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا مجھے ابھی تک عفو کا حکم ہے اس لئے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“ رجب سنہ 5 نبوی میں بعض صحابہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے جہاں ایک عادل اور رحم دل بادشاہ حکومت کرتا تھا اور نجاشی کہلاتا تھا۔حبشہ کی طرف ہجرت دو مرتبہ ہوئی ادھر کفار نے ان صحابہ پر جو کہ مکہ میں رہ گئے تھے مزید ظلم کرنے شروع کر دیئے۔میں نے یہ عرصہ مکہ میں