سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 7 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 7

16 5 محمد رسول اللہ ﷺ کا بہت قرب نصیب ہوا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ نے جن دس صحابہ کو بطورِ خاص جنت کی بشارت دی۔ان میں مجھے بھی شامل فرمایا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت خدیجہ نے سب سے پہلے آنحضرت علی کی تصدیق فرمائی۔گو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لے آئیں۔لیکن اگر عورتوں اور مردوں اور رشتہ داروں اور غیر رشتہ داروں کی تفریق نہ کی جائے تو سب سے اوّل نمبر حضرت ام المومینین حضرت خدیجہ طاہرہ کا ہی بنتا ہے۔عورتوں میں سے حضرت ابو بکر کی بیٹی اسماء حضرت عمرؓ کی الله بہن فاطمہ زوجہ زید بن سعید حضور ﷺ کی بچی ام فضل زوجہ عباس اور حضرت آمنہ کی خادمہ اُم ایمن زوجہ زید بن حارثہ جلد ایمان لے آئیں۔الله مشکلات کا دور ماں کی محبت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے تقریباً تین سال بعد تک تبلیغ کا معاملہ مخفی رہا۔تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے شروع میں اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر محمد رسول اللہ ﷺ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کر دی۔اور مکہ والوں کو بہت جلد ہمارے مسلمان ہونے کا علم ہو گیا۔جلد ہی مخالفت کی رو چلی اور پھیلتی چلی گئی۔اس مخالفت کا رخ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ ہر ابتدائی مسلمان اس کی زد میں آتا چلا گیا۔قریش مکہ نے اس نئے دین کو سخت نا پسند کیا اور اس کے رستے میں حائل ہو گئے۔انہوں نے اسلام کی اشاعت کو صلى الله زبر دستی روکنا چاہا اور یہ فیصلہ کیا کہ ہم سب کو خدا اور محمد رسول اللہ ﷺ سے جدا کر کے واپس اپنے دین میں داخل کیا جائے گا۔ہم اس سے پہلے مشرک تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے اب ہم نے شرک کو چھوڑ کر تو حید کو اختیار کر لیا تھا۔قریش نے فیصلہ کیا کہ جس جس خاندان سے کوئی مسلمان ہوا ہے وہ خاندان اس مسلمان پر سختی کر کے اسلام چھوڑنے پر مجبور کرے۔میری ماں کو مجھ سے بہت محبت تھی اور میں ان کا بے حد احترام کرتا تھا ان کی ہر بات مانتا تھا۔انہوں نے مجھے اسلام چھوڑنے کے لئے کہا میرے لئے یہ بات ماننی ممکن نہ تھی۔میں نے انکار کیا انہوں نے مجھے قسم دی اور کہا کہ میں جب تک محمد رسول اللہ اللہ کے دین کو نہیں چھوڑتا وہ مجھ سے نہیں بولیں گی۔کھانا پینا