سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 33 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 33

58 57 ہاتھ آیا۔جنگ قادسیہ سنہ 16ھ (635ء) میں لڑی گئی اس جنگ نے ایران کے دروازے مسلمانوں پر کھول دیئے۔تمام مجاہدین کو کثرت سے مال غنیمت ملا جس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔حضرت عمر کو خبر ملی تو آپ سجدہ میں الله گر گئے اور لوگوں کو مسجد نبوی ﷺ میں بلا کر قادسیہ کی فتح کی خوش خبری سنائی تمام مسلمان قادسیہ کی فتح سے بہت خوش ہوئے۔عراق کے محاذ پر اللہ تعالیٰ کی مدد خاص طور پر ہمارے شامل حال تھی ان دنوں عجیب و غریب واقعات ہوئے۔ایک روز مدینہ میں خطبہ جمعہ کے دوران حضرت عمر پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میدان جنگ آپ کے سامنے آ گیا آپ نے دیکھا کہ ساریہ جو ایک دستے کا جرنیل تھا۔وہ اپنے ساتھیوں سمیت دشمن فوج سے لڑ رہا ہے مگر دشمن کی فوج کا پلہ بھاری ہے اور قریب ہے کہ اسلامی فوج شکست کھا جائے آپ نے بلند آواز سے کہا ساریہ ! پہاڑ کی طرف ہو جاؤ تا کہ دشمن کے حملے سے بچ سکو۔خدا کی عجیب شان ہے کہ آواز میدان جنگ میں پہنچی ساریہ پہاڑ کے پیچھے ہو گئے اور دشمن کے حملے سے بچ قادسیہ میں شکست کھانے کے بعد ایرانی لشکر نے بھاگ کر بابل کی چھاؤنی میں پناہ لی اور فیروزاں نامی جرنیل کی سربراہی میں از سر نو جنگ کی تیاریاں کیں۔میں نے حضرت عمرؓ کو اطلاع بھجوائی اور قادسیہ سے آگے بڑھنے کی اجازت مانگی۔حضرت عمرؓ نے ایران کے دارالحکومت مدائن کی طرف پیش قدمی کی اجازت دے دی اور ایک مضبوط فوج بھی مدد کے لئے روانه فرما دی ایرانیوں نے دریائے دجلہ اور اس کی نہروں کے پل تباہ کر دیئے تا کہ مسلمان نقل و حرکت نہ کر سکیں۔ہم نے بابل اور کوئی پر قبضہ کرلیا اور لوگوں کو جزیہ پر ایمان دی کئی لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا۔کوئی وہ تاریخی جگہ تھی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے قید کر لیا تھا۔میرے منہ سے بے ساختہ یہ آیت نکلی۔تِلْكَ اللَا يَامُ نُدَاوِ لُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: ۱۴۱) یعنی یہ دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان نوبت به نوبت پھیراتے رہتے ہیں۔ہم کوئی سے آگے برہ شیر نامی جگہ پر پہنچے یہاں کسرای کا شکاری شیر رہتا تھا دشمن نے اس شیر کو ہمارے لشکر پر چھوڑ دیا۔میرے بھائی عقبہ کا بیٹا ہاشم ہر اول دستے کا افسر تھا۔انہوں نے شیر پر تلوار سے حملہ کیا اور شیر کو مار دیا میں نے ہاشم کی بہادری دیکھ کر اس کی پیشانی چوم لی۔برہ شیر دار حکومت مدائن کی حفاظتی چھاؤنی تھی پہلے ایرانی یہاں قلعہ بند ہوئے لیکن دو ماہ کے محاصرے سے قلعہ سے باہر نکل آئے اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے لیکن بری طرح پسپا ہوئے ہم قلعہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے۔شہر والوں کو جزیہ پر امان دی۔یہاں سے ہم نے دیکھا کہ دریائے دجلہ کے اس طرف مدائن کے سفید محلات ہیں جن کی فتح کی خوشخبری حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دوران دی تھی۔مدائن کے سفید محلات اور ہمارے درمیان دریائے دجلہ حائل تھا اس کے پل تو ڑ دیئے گئے تھے۔اور بارشوں کی وجہ سے طغیانی آئی ہوئی تھی میں