سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 34 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 34

60 60 59 نے گھوڑوں کو دریا میں ڈالنے کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں کو کہا۔مسلمانو! میں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کر کے میں اپنے گھوڑے کو دریا میں ڈال دوں۔بتاؤ اس وقت کون میرا ساتھ دے گا۔تمام فوج پکا راٹھی اے امیر ! ہم حاضر ہیں۔چنانچہ ہم سب نے دجلہ میں اپنے گھوڑے ڈال دیئے اس وقت میری نظروں کے آگے وہ زمانہ آ گیا جب جنگ بدر پر روانگی سے قبل حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے انصار سے مشورہ مانگا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم حاضر ہیں۔اگر آپ ہمیں سمندر میں لڑنے کے لئے بھی کہیں تو ہم تیار ہیں۔یہ کیفیت میری فوج کی تھی انہوں نے امیر کی اطاعت میں جو آنحضرت علی کے ابتدائی صحابہ میں سے ہے سچ سچ اپنے گھوڑے پانی میں ڈال دیئے اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ساری فوج صحیح سلامت دریا پار کر کے مدائن کے سفید محلات کے پہلو میں پہنچ گئی۔یہ نظارہ دیکھ کر دشمن پر دہشت طاری ہوگئی اور انہوں نے مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔کسری فارس یزدگرد جس قدر خزا نہ سمیٹ سکتا تھا سمیٹ کر کچھ امراء اور محافظوں کے ساتھ حلوان کی طرف بھاگ گیا۔جہاں اس کے بیوی بچے پہلے ہی پہنچا دیئے گئے تھے۔ایوان کسری پر اسلامی پرچم لشکر اسلام مدائن کے سفید محلات میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتا ہوا داخل ہوا۔مدائن کی شان و شوکت اور سرسبز و شاداب باغ دیکھ کر میرا دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر گیا اور میری زبان پر بے اختیار سورۃ دخان کی وہ آیات جاری ہو گئیں۔جن میں اللہ تعالیٰ کافروں کی نعمتوں کا ایک دوسری قوم کو وارث بنانے کا وعدہ کرتا ہے۔میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدائن کے سفید محلات میں نماز شکرانہ ادا کی محل کے درودیوار اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھے۔کسری فارس کے محل کے اوپر اسلامی پر چم لہرایا گیا۔یہاں پر جو مال غنیمت ہمارے ہاتھ آیا اس کی مالیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے بے انتہا ہیرے جواہرات سونا چاندی، تلواریں زر ہیں، قیمتی پار چات اس کی مالیت کا اندازہ نہیں کھرب دینار کے قریب لگایا گیا۔میں نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ مدینہ حضرت عمرؓ کے پاس بھجوا دیا اور باقی فوج میں تقسیم کر دیا۔مال غنیمت کو دیکھ کر حضرت عمر اور مدینہ کے مسلمانوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو گئے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا:۔لوگو ! رب ذوالجلال کا شکر ادا کرو جس نے کسری عظیم فارس سے سلطنت چھین لی اس نے کہا تھا کہ میں لوگوں کا رب ہوں۔آج خدائے حقیقی نے عرب کے بادیہ نشینوں کو اس کا مالک بنا دیا ہے۔جان لو کہ عزت اور ذلت سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ حضرت عمر نے اس موقع پر کسری کے کنگن سراقہ بن مالک کو پہنائے جن