سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 32 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 32

56 55 مدائن بھجوایا جو سیدھا کسری فارس کے پُر شوکت دربار میں پہنچا اور یزدگرد کے پوچھنے پر اسے بتایا کہ عرب کے سارے قبائل کو متحد کرنے کے بعد ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں جو ہم سے قریب تر ہیں۔اگر تم شرک کو چھوڑ دو اور خدا اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آؤ اس صورت میں ہم کتاب اللہ تمہارے درمیان چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے اگر یہ منظور صلى الله نہیں تو جز یہ دو ورنہ تلوار تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی۔کسری فارس اس گفتگو سے غضب ناک ہوا اور جواباً خاک کی ایک ٹوکری اٹھا کر مسلمان کے آگے پھینک دی یہ مٹی کی ٹوکری نعمان کے ایک ساتھی عاصم نے اپنی چادر میں ڈال لی اور مجھے آ کر مبارک دی کہ دشمن نے اپنی زمین خود ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔انشاء اللہ اب ہم ضرور غالب آئیں گے۔یزدگرد نے رستم کو حکم دیا کہ قادسیہ پہنچ کر مسلمانوں کے لشکر کو نیست و نابود کر دو۔رستم اس وقت ساباط میں تھا اس نے اپنے اڑھائی لاکھ لشکر کے ساتھ جس میں تین سو ہاتھی بھی تھے قادسیہ کی طرف کوچ کیا اور کوٹی کے مقام پر پہنچا۔وہاں سے نجف اور پھر قادسیہ کے سامنے عتیق کے مقام پر پہنچا۔مدائن اور قادسیہ کے درمیان صرف چند دن کا فاصلہ تھا۔چھ ماہ تک جنگ کی نوبت نہ ماہ آئی۔رستم کا خیال تھا کہ مسلمان تھک کر واپس چلے جائیں گے۔بالآخر اس نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں اپنا کوئی معتمد صلح کی گفتگو کے لئے اس کے پاس بھیجوں میں نے یکے بعد دیگرے تین بہادروں کو بھجوایا رستم نے بڑی شان و شوکت سے دربار سجایا ہوا تھا اور سونے کے تخت پر بیٹھا تھا۔لیکن میرے سفیر اس سے مرعوب نہ ہوئے اور بڑی بے باکی سے اسے اسلام کی دعوت دی ورنہ لڑنے کے لئے کہا۔رستم سخت غضب ناک ہوا۔اور اس نے کہا:۔سورج کی قسم ! تم سے صلح نہیں ہو سکتی کل میں تم سب کو ہلاک کروں گا“۔دونوں فوجوں کے درمیان دریائے دجلہ حائل تھا۔رستم راتوں رات پل بنوا کر اپنی فوج کو مسلمانوں کی طرف لے آیا میرے لشکر کی تعداد میں ہزار کے لگ بھگ تھی۔میں بیمار تھا اس لئے میدان جنگ کے قریب ایک عمارت پر بیٹھ گیا اور وہیں سے ہدایات دیتا رہا پہلے انفرادی جنگ ہوئی جو ایرانی سامنے آیا مد مقابل مسلمان نے اس کا سر کاٹا اس پر جنگ با قاعدہ شروع ہوگئی۔ایرانیوں نے جنگی ہاتھیوں کو ہماری طرف دھکیلا اور ایرانی فوجیں آندھی اور طوفان کی طرح مسلمانوں پر حملہ آور ہوئیں۔مسلمانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس طاقت کا مظاہرہ کیا جس کے لئے انسانی بدن بنائے ہی نہیں گئے تھے۔یہ ایمان کی طاقت تھی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تھی جو کام کر رہی تھی اس کے پیچھے خلیفہ وقت اور عالم اسلام کی دعائیں تھیں جو اثر پیدا کر رہی تھیں۔اس جنگ میں رستم مارا گیا اس کی موت سے ایرانی بد دل ہو گئے۔ان کے ہاتھیوں کی سونڈوں پر مسلمانوں نے تلواریں چلائیں اور وہ اپنی ہی فوج کو روندتے ہوئے پیچھے بھاگے تقریبا تمیں ہزار ایرانی ہلاک ہوئے۔مسلمان شہداء کی تعداد آٹھ ہزار تھی۔ایرانیوں کو عبرتناک شکست ہوئی کسری فارس کے تحت کی بنیادیں ہل گئیں۔بے تحاشا مال غنیمت ہمارے //